شریف برادران پر 32 ملین ڈالر منی لانڈرنگ کا الزام

Image caption اگر عدالت نے طلب کیا تو وہ اس بابت تمام دستاویزی ثبوت بھی مہیّا کریں گے: رحمان ملک

پاکستانی وزیرِ داخلہ رحمان ملک نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ کے قائد میاں نواز شریف اور ان کے اہلِ خانہ تین کروڑ بیس لاکھ امریکی ڈالر کے منی لانڈرنگ کے معاملے میں ملوث ہیں اور کہا کہ وہ ایسے مزید معاملات کو عیاں کریں گے۔

پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق، گزشتہ روز ایک نیوز کانفرنس میں وزیر داخلہ نے کہا کہ وہ اس معاملے کا ریفرنس اگلے ہفتے نیب یعنی وفاقی احتساب بیورو کو ارسال کریں گے اور اگر عدالت نے طلب کیا تو وہ اس بابت تمام دستاویزی ثبوت بھی مہیّا کریں گے۔

وفاقی حکومت نے بظاہر یہ اقدام حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ نون کی دھمکی کے جواب میں کیا ہے اور مسلم لیگ نون کی قیادت کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات کی تفصیلات پیش کی ہیں۔

مسلم لیگ نون ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی حکمران ہے اور اس کے قائد میاں محمد نواز شریف نے سپریم کورٹ سے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کے مقدمے میں سزا ملنے اور مجرم قرار دیے جانے کے بعد اُن سے وزارتِ عظمٰی کا عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ کیا ہے، بصورت دیگر ناقابل توقع نتائج کے لیے تیار رہنے کی دھمکی دی ہے۔

رحمان ملک نے سپریم کورٹ سے اپیل کی ہے کہ وہ بدعنوانی کے اِس معاملے پر ازخود کارروائی کرے جس میں ملک کے قیمتی زرمبادلہ کو بیرونِ ملک بھیجا گیا۔

رحمان ملک نے کہا کہ بطور وزیرِ داخلہ وہ ایف آئی اے کو ہدایت کر سکتے تھے کہ جو افراد منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں اُن کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے بعد گرفتار کیا جائے تاہم انہوں نے ایسا کرنے کی بجائے اس معاملے کو قومی احتساب بیورو بھیجنے کا فیصلہ کیا تاکہ اس پر آزادانہ تحقیقات ہوسکیں۔

انہوں نے کہا کہ شریف برادران کے خلاف ثبوت و شواہد جمع کرنا اُن کی ذاتی کاوش تھی، اور یہ تو ابھی شروعات ہیں، آنے والے دنوں میں وہ ایسے مزید معاملات سے پردہ اٹھائیں گے۔

منی لانڈرنگ کے معاملے کی تفصیلات بتاتے ہوئے رحمان ملک نے کہا کہ شریف برادران کی ملکیت حدیبیہ پیپر مِل لمیٹڈ نے پندرہ فروری سنہ انیس سو پچانوے میں کیمین آئی لینڈ کے قوانین کے تحت التوفیق کمپنی سے سرمایہ کاری کا ایک معاہدہ کیا تھا جس کے مطابق پیپر ساز کمپنی کو 12.046 ملین ڈالر ادا کیے جانے تھے۔

رحمان ملک نے کہا کہ حدیبیہ پیپر مل ادائیگی کرنے میں ناکام رہی جس کے بعد اٹھارہ مارچ سنہ نیس سو اٹھانوے میں جسٹس کوئینز بینچ ڈویژن کے ہائی کورٹ نے اسے نادہندہ قرار دے کر میاں شہباز شریف کو حکم دیا کہ وہ ادائیگی کریں۔

وزیرداخلہ نے کہا کہ وہ بدعنوانی کے مزید معاملات سے پردہ اٹھائیں گے جن میں مہران بینک سکینڈل بھی شامل ہے۔

انہوں نے گزشتہ چند دنوں کے دوران شریف برادران کے کردار پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شریف برادران کی جانب سے حکومت اور جمہوریت کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں کا ہر ممکن جواب کیا جائے گا۔

اسی بارے میں