’پیپلز پارٹی کا وزیراعظم خط نہیں لکھے گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عدالت نے جو سزا دی ہے وہ قانونی اعتبار سے حتمی نہیں ہے:گیلانی

پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ جب تک صدر آصف علی رزرادی کو آئینی استثنیٰ حاصل ہے اس وقت تک وہ یا ان کے بعد آنے والا پیپلز پارٹی کا کوئی وزیر اعظم سوئس عدالتوں کو خط نہیں لکھے گا۔

انہوں نے یہ بات اتوار کو لاہور میں اپنی رہائش گاہ پر وکلاء اور سابق ججوں سے ملاقات کے دوران کہی۔

ملاقات کے بعد وزیر اعظم کے معاون خصوصی فواد چودھری ایڈووکیٹ نے بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق کو بتایا کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ جب تک آئین کے آرٹیکل دو سو اڑتالیس کے تحت صدر مملکت کو استنثیْ حاصل ہے اس وقت تک وہ یا ان کے بعد پیپلز پارٹی کا آنے والا وزیر اعظم سوئس عدالتوں کو خط نہیں لکھے گا۔

فواد چودھری کے بقول وزیر اعظم نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم کی راہ میں آئین کا آرٹیکل دو سو اڑتالیس حائل ہے اور جب تک آئین کا یہ آرٹیکل ہے اس وقت تک ’میں ہوں یا کوئی دوسرا وزیر اعظم وہ خط نہیں سکتا‘۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی نے بتایا کہ یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ انہوں نے آئین کی پاسداری اور تحفظ کا حلف اٹھایا تھا اور اسی کے تحت آئین کا تحفظ کیا اور سوئس عدالتوں کو اسی وقت خط لکھا جاسکتا ہے جب پارلیمان صدر مملکت کو حاصل استثنیْ ختم کر دے یا پھر سپریم کورٹ اس وقت تک کے لیے اپنا حکم ملتوی کردے جب تک آصف علی زرداری صدر ہیں۔

فواد چوہدری کے مطابق یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ توہین عدالت کے قانون کے بارے میں یہ تنازع موجود ہے کہ آیا یہ قانون موجود ہے یا نہیں۔ وزیر اعظم کے بقول جتنی کم سزا ہوتی ہے اس کو ہیمشہ معطل کیا جاتا ہے اور سپریم کورٹ کے بنچ کو بھی سزا معطل کرنی چاہئے تھی۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی کے بقول یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ان کو عدالت نے جو سزا دی ہے وہ قانونی اعتبار سے حتمی نہیں ہے اور جب اس بارے میں حتمی فیصلہ ہوگا اس وقت سپیکر قومی اسمبلی یہ فیصلہ کریں گی کہ آیا نااہلیت بنتی ہے یا نہیں۔

فواد چودھری کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے کہا کہ پہلے جب تک توہین عدالت کے مقدمے کا تفصیلی فیصلہ نہ آجائے پھر اپیل پر فیصلہ نہ ہوجائے اور اس کے بعد سپیکر قومی اسمبلی کی طرف سے کوئی حتمی فیصلہ نہ آجائے اس وقت تک یہ کہنا ہے مناسب نہیں ہے کہ میں (یوسف رضا گیلانی) اسمبلی میں نہ آؤں اور میں وزیر اعظم نہیں رہا۔

مسلم لیگ نون کی طرف سے وزیر اعظم کے عہدے سے مستعفیْ ہونے کے بارے میں فواد چودھری ایڈووکیٹ نے بتایا کہ وزیراعظم نے کہا کہ وہ نواز شریف کی خواہش پر مستعفیْ نہیں ہوسکتے۔ ان کو سزا کسی کو قتل کرنے پر نہیں بلکہ آئین کی پاسداری کرنے پر ہوئی ہے۔

یوسف رضاگیلانی نے یہ بھی کہا کہ ملک میں آئین اور قانون ہے اور کوئی بھی کسی کو زبردستی اس بات کا پابند نہیں کرسکتا کہ وہ اسمبلی میں آئے یا نہ آئے۔ فواد چودھری کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے کہا کہ نواز شریف کو بھی عدالت سے سزا ہوئی لیکن ان سے یہ نہیں کہا تھا کہ وہ سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہ لیں۔

اسی بارے میں