اُسامہ کمیشن کا کیا ہوا

اسامہ بن لادن تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نائن الیون کے واقعہ کے بعد پاکستان کے مختلف علاقوں میں رہے ہیں: اسامہ کی ایک بیوہ کیا بیان

گُزشتہ برس دو مئی کو القاعدہ کے رہنما اُسامہ بن لادن کی ہلاکت کے واقعہ کی تحققیات کے لیے بنائے گئے کمیشن کی کارروائی ابھی تک اپنے حتمی نتائج پر نہیں پہنچ سکی۔

کمیشن کے سامنے سب سے پہلا حل طلب سوال یہ ہے کہ امریکی سکیورٹی فوسرز کے ہاتھوں ہلاک ہونے والا شخص دراصل دنیا کا ’موسٹ وانٹیڈ‘ شخص اسامہ بن لادن ہی تھا۔

اس سوال کا جواب ملنے کے بعد یہ کمیشن اُن ذمہ دار افراد کا تعین کرے گا جن کی وجہ سے اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی کا پتہ چلا اور پھر امریکی سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں نے پاکستان میں گھس کر کارروائی کی۔

اکیس جون سنہ دوہزار گیارہ کو سپریم کورٹ کے سینیرجج جاوید اقبال کی سربراہی میں قائم کمیشن کے پچیس سے زائد اجلاس ہو چکے ہیں جن میں فوج اور سویلین بیوروکریسی کے افسران کے علاوہ متعدد سیاست دانوں کو بھی طلب کیا گیا۔

مختلف سیاسی جماعتوں کے سربراہوں اور سیاست دانوں کو نہ صرف سوالنامے بھیجے گئے بلکہ متعدد سیاست دان خود بھی کمیشن کے سامنے پیش ہوئے اور اپنے بیانات قلمبند کروائے۔ تاہم ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ نون کے سربراہ ابھی تک کمیشن کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔

اطلاعات کے مطابق کمیشن نے ایک سو سے زائد افراد کے انٹرویو اور بیانات ریکارڈ کیے۔ اس کے علاوہ کمیشن نے اسامہ بن لادن کی بیوہ اور دیگر افراد سے بھی پوچھ گچھ کی لیکن کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا کہ اس حملے میں ہلاک ہونے والا شخص دنیا کا سب سے زیادہ مطلوب ترین آدمی یعنی اُسامہ بن لادن ہی تھا۔

کمیشن کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کے مطابق اس کمیشن کو گُزشتہ برس کے آخر تک اپنی رپورٹ کو حتمی شکل دینا تھی لیکن اس پر بھی چار ماہ سے زائد کا عرصہ گُزرنے کے باوجود کمیشن اپنی رپورٹ مکمل نہیں کرسکا۔ اس کمیشن کے دیگر ارکان میں لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ندیم احمد، پنجاب پولیس کے سابق سربراہ عباس خان کے علاوہ امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر اشرف جہانگیر قاضی شامل بھی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ایبٹ آباد کمیشن اپنی حتمی سفارشات لکھنے میں مصروف ہے جبکہ اسٹیبلشمنٹ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ دو مئی کے واقعہ سے متعلق متنازع میموکے منظر عام پر آنے کے بعد کمیشن کو سفارشات کو حتمی شکل دینے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

ایبٹ آباد کے واقعہ کے بعد جہاں حکومت پاکستان پر سوال اُٹھنے لگے تو دوسری طرف پاکستان کی سکیورٹی فورسز کی طرف بھی اُنگلیاں اُٹھنے لگیں کہ کیسے اتنی انٹیلیجنس اور سخت سکیورٹی کے باوجود امریکی فورسز رات گئے ایبٹ آباد میں آئیں اور مبینہ طور پر اُسامہ بن لادن اور اس کے دیگر ساتھیوں کو ہلاک کرنے کے بعد واپس چلی گئیں۔

کمیشن نے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ احمد شجاع پاشا کو بھی طلب کر کے بیانات قملبند کروائے۔

اگرچہ اس کمیشن کے پاس کسی کے خلاف کارروائی کا اختیار نہیں ہے لیکن اس کے برعکس ڈاکٹر شکیل آفریدی، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اُنہوں نے اُسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی کے بارے میں امریکی حکام کو آگاہ کیا تھا کہ خلاف کارروائی بھی اسی کمیشن کی سفارشات پر کی گئی ہے۔

اُسامہ بن لادن کی سب سے چھوٹی بیوہ کا بیان کہ اُن کے شوہر نائن الیون کے واقعہ کے بعد پاکستان کے مختلف علاقوں میں رہے ہیں کمیشن کو مزید مشکل میں ڈال دیا ہے کہ اس کی ذمہ داری کس پر ڈالیں کہ ایک مطلوب شخص کیسے پاکستان کے مختلف علاقوں میں گھومتا رہا اور قانون نافذ کرنے والے اور خفیہ اداروں کے اہلکار کیسے بے خبر رہے۔

سندھ پولیس کے سابق سربراہ افضل شگری کا کہنا ہے کہ اگر فوج یا دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے نااہلی پائی جاتی ہے تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ کوئی ادارہ اس میں ملوث ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ کمیشن کی طرف سے تیار کی گئی سفارشات پر عمل ہونا چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر کوئی ادارہ اپنے کسی ذمہ دار شخص کو بچانے کی کوشش کرے تو پھر اُس ادارے کو ذمہ دار قرار دیا جاسکتا ہے۔

اسی بارے میں