طالبان قیادت کہاں؟

Image caption تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود اور مرکزی ترجمان اعظم طارق

کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے اُسامہ بن لادن کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے پاکستان میں شدت پسندی کی مختلف کارروائیاں کرنے کا دعویٰ تو کیا تاہم تنظیم کے قائدین اب میڈیا سے رابطہ نہیں کر رہے ہیں۔

تحریک طالبان کی قیادت کی اس حکمت عملی کے کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔

اس وقت پاکستان کے قبائلی علاقوں میں طالبان شدت پسندوں کے تین بڑے گروہ موجود ہیں جن میں تحریک طالبان پاکستان، حافظ گل بہادر اور مُلا نذیر گروپ کے طالبان شامل ہیں۔

اس کے علاوہ علاقے میں جلال الدین حقانی، پنجابی طالبان اور القاعدہ کے جنگجو بھی بتائے جاتے ہیں۔

حافظ گل بہادر، مُلا نذیر اور جلال الدین حقانی گروپ کے طالبان کی طرف سے اُسامہ بن لادن کی ہلاکت پر افسوس اور مذمتی بیان تو سامنے آئے تھے لیکن انہوں نے تحریک طالبان پاکستان کی طرح بدلہ لینے کا اعلان نہیں کیا تھا۔

حافظ گل بہادر اور مُلا نذیر گروپ کے اپنے علیحدہ علیحدہ ترجمان ہیں جبکہ تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان اور نائب ترجمان کے علاوہ ہر علاقے میں ایک مقامی ترجمان بھی ہوتا ہے۔

حافظ گل بہادر اور مُلا نذیر گروپ کے طالبان پاکستان میں کوئی کارروائی نہیں کرتے ہیں تاہم تحریک طالبان پاکستان نے پاکستان کے خلاف ہی کارروائیاں کرنے کا اعلان کر رکھا ہے اور شدت پسندی کے تقریباً ہر ایک واقعہ کی ذمہ داری بھی قبول کرتے چلے آ رہے ہیں۔

لیکن اُسامہ بن لادن کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے اعلان کے بعد سے تحریک طالبان پاکستان کے قائدین نے بہت احتیاط شروع کر دی ہے۔

Image caption افغان طالبان کمانڈر جلال الدین حقانی

صرف تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کا ہی میڈیا سے رابطہ منقطع نہیں ہوا بلکہ تحریک کے مرکزی ترجمان اعظم طارق بھی منظر سے غائب رہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے نائب ترجمان احسان اللہ احسان بھی بیان دینے سے گریز کرتے رہے۔

ضلع ہنگو میں جمعہ کو ہونے والے خودکُش حملے کی ذمہ داری درہ آدم خیل میں طالبان شدت پسند کے ایک جنگجو نے احسان اللہ احسان کے نام سے قبول کی تھی۔

باجوڑ ایجنسی سے فقیر محمد کے ایک کمانڈر نے باجوڑ واقعہ کی ذمہ داری احسان اللہ احسان کے نام سے قبول کی۔

اس تمام صورتحال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے دیکھا جائے تو ایک مبہم سی صورتحال نظر آتی ہے جو کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ تحریک کے اصل ترجمان کی جگہ پر کسی اور کا ان کے نام سے مختلف واقعات کی ذمہ داری قبول کرنا تحریک کی جانب سے کوئی نئی منصوبہ بندی تھی یا پھر ذرائع ابلاغ میں مسلسل رہنے کے بعد اصل ترجمان حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے روپوش ہو گئے۔

اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد تحریک کے بعض رہنماؤں کی جانب سے دھمکیاں بڑھ گئیں اور سکیورٹی فورسز نے بھی ان کے خلاف گھیرا تنگ کر دیا۔

Image caption اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز نے بنوں سے میرانشاہ جانے والی مرکزی شاہراہ کے اوپر سے کئی چیک پوسٹوں کو خالی کر دیا ہے

دوسری جانب اُسامہ بن لادن کے ہلاکت کے بعد امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کے پاکستان کے پہلے دورے کے بعد سکیورٹی فورسز نے بنوں سے میرانشاہ جانے والی مرکزی شاہراہ کے اوپر سے کئی چیک پوسٹوں کو خالی کر دیا۔

مقامی میڈیا کے مطابق چوکیاں خالی کرنے کی وجہ سے خیال کیا جا رہا تھا کہ یہ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کی تیاریوں کا حصہ ہے۔

مقامی میڈیا پر چلنے والی خبروں کے مطابق شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی افغان طالبان کمانڈر جلال الدین حقانی اور تحریک طالبان پاکستان کے خلاف ہوگی۔

اب اگر دیکھا جائے تو تحریک طالبان پاکستان کے جنگجووں صرف شمالی وزیرستان میں نہیں بلکہ تمام قبائلی علاقوں میں موجود ہیں۔

اگر سکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان میں جلال الدین حقانی اور تحریک طالبان کے خلاف کارروائی شروع کی تو حافظ گل بہادر گروپ کے مقامی طالبان بھی متاثر ہونگے کیونکہ شمالی وزیرستان میں تحریک طالبان کے نسبت حافظ گل بہادر گروپ زیادہ مضبوط ہے اور اس گروپ میں شامل لوگ بھی زیادہ تر مقامی آبادی کے لوگ بتائے جاتے ہیں۔

مبصرین کے خیال میں تحریک طالبان پاکستان کے جنگجو شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن شروع ہوتے ہی وہاں سے نکل جائیں گے کیونکہ تحریک طالبان پاکستان میں شامل زیادہ تر جنگجووں کا تعلق جنوبی وزیرستان کے محسود قبائل سے ہے۔

یہ لوگ جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے بعد سے صرف شمالی وزیرستان میں ہی نہیں بلکہ تمام قبائلی علاقوں میں تقسیم ہوگئے ہیں۔

اسی بارے میں