پاکستان: یوم مئی پر مزدور کی خود سوزی

تبت میں خود سوزی تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سندھیوں کی فیکٹریوں میں مزدوروں کے سے ایسی ناانصافیاں کیوں؟

عالمی یوم مزدور کے موقع پر صوبہ سندھ کے شہر بدین میں ایک مزدور نے ملوں میں مزدوروں کو حالت زار پر احتجاج کرتے ہوئے خود کو آگ لگا لی اور شدید جھلس گئے۔

حیدر آباد سے نامہ نگار علی حسن کے مطابق مرزا شوگر ملز بدین کے ملازم عبد الرزاق اپنی پانچ کم عمر بیٹیوں کے ہمراہ بدین پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا۔

’ووٹ کے وقت آپا فہمیدہ آ جاتی ہیں‘

انہوں نے اس موقع پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ وہ مرزا شوگر ملز میں لیبر سپروائزر ہیں لیکن ان کی ماہانہ تنخواہ صرف پانچ ہزار روپے ہے۔انہوں نے کہا کہ جب ووٹ چاہیے ہوتے ہیں تو آپا فہمیدہ مزرا ہمارے گھروں میں آ جاتی ہیں اور کہتی ہیں کہ یہ تو ہمارے اپنے گھر ہیں۔

انہوں نے کہا ہماری مالی پوزیشن اتنی خراب ہے کہ ہم اپنے بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا بندوبست نہیں کر سکتے ۔

عبد الرزاق نے بتایا کہ ایسا صرف انہیں کے ساتھ نہیں ہو رہا بلکہ اور بھی مزردوں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے جیالے کارکن ہیں لیکن وہ اپنی موجودہ تنخواہ میں اپنے بچوں کو دو وقت کا کھانا بھی مہیا نہیں کر سکتے۔

انہوں نے اس موقع پر سوال کیا کہ سندھیوں کی فیکٹریوں میں مزدوروں سے ایسی نا انصافیاں کیوں ہیں؟

عبد الرزاق نے اس موقع پر اپنے جسم پر پیٹرول چھڑک کر خود کو آگ لگا لی۔ موقع پر موجود لوگوں نے عبد الرزاق کی آگ بجھانے کی کوشش کی لیکن ان کے جسم کا زیادہ حصہ شدید جھلس کیا۔

ڈاکٹر کے مطابق مزدور عبدالرزاق کے جسم کا ستر فیصد حصہ جل گیا ہے۔ انہیں ہسپتال داخل کروا دیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے انہیں کراچی منتقل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔