’دیکھتے ہی دیکھتے سب سے بڑی خبر بن گئی۔۔۔‘

آپریشن کے دوران گرنے والا امریکی ہیلی کاپٹر
Image caption آپریشن کے دوران گرنے والا امریکی ہیلی کاپٹر

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار ذوالفقار علی نے گذشتہ سال دو مئی 2011 کو سب سے پہلے بی بی سی اردو کو یہ خبر بریک کی تھی کہ پاکستان کے چھاؤنی والے شہر ایبٹ آباد میں امریکی ہیلی کاپٹر گرنے کی اطلاع ہے جو بعد میں بی بی سی میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت پر منتج ہونے والے امریکی خصوصی فورسز کے آپریشن کی خبر کی بنیاد بنی۔

یہ خبر بریک کرنے پر ذوالفقار علی کو مغربی اور وسطی ایشیاء کے خطے میں بہترین رپورٹنگ کا بی بی سی گلوبل نیوز ایوارڈ برائے سال 2012 بھی ملا ہے۔

دو مئی کی رات کیا ہوا سنیئے ان ہی کی زبانی۔

’مجھے صحافتی زندگی میں جو خبریں ہمیشہ یاد رہیں گی ان میں سب سے منفرد وہ خبر ہے جو پچھلے سال دو مئی کی صبح کو دیکھتے ہی دیکھتے ساری دنیا کی سب سے بڑی خبر بن گئی تھی۔

میری مراد پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف امریکی کارروائی ہے جس کا آغاز دو مئی کو صبح سویرے ہوا تھا۔

اس رات دو اور اہم واقعات پاکستان میں ہوئے۔ ایک حکمران جماعت پیپلز پارٹی کی مخالف جماعت مسلم لیگ (ق) کی حکومت میں باضابطہ شمولیت اور دوسرا اسلام آباد کے قریب واقع اٹک کے ایک علاقے میں افغانستان میں اتحادی افواج کے لیے رسد لے جانے والے ٹرکوں اور پولیس چوکی پر حملہ جس میں چار پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

رات گئے ان واقعات کو کور کرنے کے بعد گھر جانے کا سوچ ہی رہے تھے کہ اسی دوران یہ اطلاع ملی کہ ایبٹ آباد میں بلال آباد کے علاقے ٹھنڈا چوہا میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کے قریب ایک ہیلی کاپٹرگر کر تباہ ہوگیا ہے۔

اس واقعہ کی طرف توجہ جانا ایک فطری بات تھی کیوں کہ یہ اس لحاظ سے ایک غیر معمولی واقعہ تھا کہ پاکستان کے فوجی ہیلی کاپٹر رات کو اڑنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

وقت ضائع کیے بغیر ایبٹ آباد شہر میں پولیس کنٹرول کو ٹیلیفون پر رابطہ کیا جہاں موجود پولیس اہلکاروں کے پاس زیادہ معلومات نہیں تھیں۔

البتہ انہوں نے ہیلی کاپٹر گرنے کی تصدیق کی اور کہا کہ علاقے میں فائرنگ اور دھماکے کی آواز بھی سنائی دی ہے۔

ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی فوج نے علاقے کو گھیرے میں لے رکھا ہے، سول انتظامیہ اور پولیس کو جائے وقوعہ پر جانے کی اجازت نہیں اور فوج نے پولیس کو بیرونی محاصرے کے فرائض نبھانے کی ذمہ داری سونپی ہے۔

فوراً ہی یہ ابتدائی معلومات لندن میں اس رات بی بی سی اردو آن لائن پر موجود ہمارے ساتھی حسین عسکری کو پہنچا دیں۔

اس واقعہ کی مزید تفصیلات جاننے کے لیے اضطراب بڑھتا جا رہا تھا۔ مقامی پولیس افسران سے بات کی لیکن وہ معلومات میں کوئی اضافہ نہیں کرسکے۔

انہیں بھی یہی شکایت تھی کہ انہیں جائے حادثہ پر جانے کی اجازت نہیں لہذا ان کو نہیں معلوم کہ اصل ماجرا ہے کیا۔

اس رات پاکستان کی فوج کے ترجمان کے موبائل فون پر ان سے رابطے کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے فون نہیں اٹھایا۔

یہ ہیلی کاپٹر کہاں سے آیا تھا، کیوں آیا تھا اور وہاں کیا ہو رہا تھا یہ ایسے سوالات تھے جن کے جواب ملنا ضروری تھے۔

ایبٹ آباد میں ایک مقامی صحافی سے رابطہ ہوا تو انہوں نے بتایا کہ انہیں نہ تو تصویریں بنانے کی اجازت ہے اور نہ ہی انہیں جائے وقوعہ کی طرف جانے دیا جا رہا ہے۔

البتہ ان کا کہنا تھا کہ فوج کی بڑی تعداد نے علاقے کو محاصرے میں لے رکھا ہے، فوجی حکام جائے حادثہ پر پہنچے ہیں اور فوجی گاڑیاں بھی جائے وقوعہ کی طرف جاتی دیکھی گئی ہیں۔ انہوں نے فائر انجنز اور ایمبولینس کی کئی گاڑیں بھی دیکھیں۔

یہ اس علاقے میں پہلی بار تھا کہ اتنے بڑے پیمانے پر پاکستان کی فوج کی نقل و حرکت دیکھنے میں آئی۔

یہ سب یہ نشاندہی کر رہے تھے کہ کوئی غیر معمولی واقعہ رونما ہوا ہے۔

مجھے ٹکڑوں میں تفصیلات ملتی رہیں اور یہ معلومات میں لندن میں اپنے ساتھی حسین عسکری کو فراہم کرتا رہا۔

یہ بڑی ہی مشکل صورت حال تھی۔

فوجی اور سول حکام نے اس واقعہ پر مکمل چپ سادھ لی تھی اور کسی کو جائے حادثے کی طرف جانے کی اجازت نہیں تھی اور ایسے میں میری مسلسل یہ کوشش رہی کہ کسی ایسے شخص سے رابطہ ہو جو زیادہ سے زیادہ تفصیلات فراہم کر سکے۔

Image caption ایب آباد کا وہ گھر جہاں اسامہ بن لادن مقیم تھے

اسی تگ و دو میں ایک ایسے مقامی شخص سے ٹیلیفون پر رابطہ ہوا جو جائے وقوعہ سے ہو کر آئے تھے اور انہوں نے تباہ شدہ ہیلی کاپٹر کے ٹکڑے بھی اٹھائے تھے۔

انہوں نے آنکھوں دیکھا حال بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ ساری کارروائی ایک دو منزلہ مکان پر مرکوز تھی جس کے ارد گرد بارہ سے چودہ فٹ اونچی دیوار ہے جس پر خاردار تار بچھائی گئی ہے۔

عینی شاہد نے کہا کہ انہوں نے دو ہیلی کاپٹر پرواز کرتے ہوئے دیکھے تھےجن میں سے ایک گر کر تباہ ہوگیا اور وہاں آگ لگ گئی۔

انہوں نے کہا کہ ان کی ساخت اور بناوٹ سے لگتا ہے کہ یہ امریکی ہیلی کاپٹر ہیں۔

اس مقامی شخص نے کہا کہ جس مکان میں کارروائی ہو رہی تھی اس مکان میں بچے، مرد اور عورتیں موجود ہیں اور انہوں نے اس گھر میں بچوں کے چیخنے کی آوازیں بھی سنیں۔

عینی شاہد نے یہ بھی بتایا کہ بعد میں پاکستان کی فوج گھر کے مکینوں کو اپنے ساتھ لے گئی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہیں معلوم ہوا کہ کارروائی کے دوران اس گھر میں ایک خاتون بھی ہلاک ہوئی۔

اس خبر کے بنیادی حقائق جانتے جانتے صبح ہو گئی لیکن کنفیوژن پھر بھی برقرار تھی۔

اسی دوران یہ اطلاع آئی کہ امریکی صدر اوباما القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بارے میں ایک نیوز کانفرنس کرنے والے ہیں۔

میں اس وقت تک اس واقعہ کے حقائق جاننے کی جستجو میں رہا جب تک دو مئی کی صبح امریکی صدر باراک اوباما نے خود یہ اعلان نہیں کر دیا کہ ایبٹ آباد میں امریکی کمانڈوز کی کارروائی میں دنیا کے مطلوب ترین شدت پسند اسامہ بن لادن ہلاک کر دیے گئے ہیں۔‘

اسی بارے میں