وزیراعظم کی نااہلی کی درخواست پر نوٹس

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اے کے ڈوگر نے عدالت سے استدعا کی کہ وزیراعظم اور ان کی پوری کا بینہ کو کام سے روک دیا جائے

لاہور ہائی کورٹ نے وزیراعظم کو کام سے روکنے اور سرکاری مراعات واپس لینے کے لیے دائر درخواست پر سات مئی کو ڈپٹی اٹارنی جنرل کو معاونت کے لیے طلب کر لیا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ میں وزیراعظم کو نا اہل قرار دیے جانے کے لیے دو درخواستیں دائر کی گئیں۔

درخواست گزار کے وکیل اے کے ڈوگر نے اپنے دلائل میں کہا کہ سپریم کورٹ سے سزا پانے کے بعد نہ صرف وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی بلکہ ان کی پوری کابینہ نااہل ہو چکی ہے اس لیے وہ اب اپنے عہدوں پر فائز نہیں رہ سکتے اور یہ قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

لاہور سے بی بی سی نامہ نگار علی سلمان کے مطابق اے کے ڈوگر نے عدالت سے استدعا کی کہ وزیراعظم اور ان کی پوری کا بینہ کو کام سے روک دیا جائے۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ شیخ عظمت سعید نے کارروائی کو ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ اس کا فیصلہ آئندہ سماعت پر کیا جائے گا۔

دوسری طرف اسلام آباد ہائی کورٹ میں وزیراعظم کو نا اہل قرار دیے جانے کی درخواست کو عدالت نے قبل از وقت قرار دے کر نمٹا دیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گی تھی کہ چونکہ وزیراعظم عدالت سے سزا پا چکے ہیں اس لیے ان کو نااہل قرار دیا جائے اور ان کو کام سے روکا جائے جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ یہ درخواست قبل از وقت ہے کیونکہ سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کے بعد شاید اس درخواست کی ضرورت نہ پڑے۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل چھیاسٹھ جی وزیراعظم کی نااہلی نہیں بلکہ رکن اسمبلی کی نااہلی سے متعلق ہے۔

واضح رہے کہ چھبیس اپریل کو پاکستان کی سپریم کورٹ نے وزیر اعظم گیلانی کو عدالتی حکم کے تحت صدر زرداری کے خلاف مبینہ بداعنوانی کے مقدمات دوبارہ کھولنے کے لیے سوئس حکام کو خط نہ لکھنے پر توہین عدالت کا مرتکب قرار دیا تھا اور انہیں عدالت کی برخاستگی تک کی سزا سنائی تھی۔ اس علامتی سزا کا دورانیہ ایک منٹ سے بھی کم تھا۔

اسی بارے میں