اسامہ کی ہلاکت، تنظیمی اتحاد کی بنیاد؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اسامہ بن لادن کو گزشتہ سال دو مئی کو ایبٹ آباد میں امریکی فوج کے آپریشن میں ہلاک کیا گیا

عالمی شدت پسند تنظیم القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کو ایک سال پورا ہوگیا لیکن پاکستان بالخصوص قبائلی علاقوں اور خیبر پختون خوا میں اس تنظیم کی سرگرمیوں پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا ہے بلکہ بانی سربراہ کی ہلاکت نے بظاہر اس تنظیم کو عسکری گروہوں کے اتحاد کی صورت میں ایک مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔

گزشتہ سال دو مئی کو جب اسامہ بن لادن ایبٹ آباد شہر میں ایک امریکی کارروائی کے دوران مارے گئے تو عالمی جہادی تنظیم القاعدہ اور اس کی چھتری تلے کام کرنے والی پاکستانی عسکری تنظیموں کی جانب سے اس ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے الگ الگ دھمکیاں دی گئیں۔

پاکستان میں سکیورٹی فورسز کے خلاف برسرپیکار اہم شدت پسند تنظیموں تحریک طالبان پاکستان، حافظ گل بہادر گروپ اور ملا نذیر گروپ نے ذرائع ابلاغ کو سخت قسم کے پیغامات جاری کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اس قتل کا بھرپور انداز میں بدلہ لیا جائے گا۔

تاہم ان تنظیموں کی جانب سے اس قسم کا ردعمل دیکھنے کو نہیں ملا جس کی عام طورپر توقع کی جارہی تھی۔

دو مئی واقعہ کے آٹھ دن بعد خیبر پختون خوا کے ضلع چاسدرہ میں شب قدر کے مقام پر فرنٹیر کانسٹبلری کے مرکز پر دو خودکش حملے کیے گئے جس میں اسّی سے زائد زیر تربیت اہلکار مارے گئے۔

ان حملوں کی ذمہ داری کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کرتے ہوئے اسے اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بدلے کے سلسلے میں پہلی کارروائی قرار دیا اور کہا کہ آنے والے دنوں میں مزید حملے کئے جائیں گے۔ طالبان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ حکومت اور سکیورٹی ادارے ملک کی حفاظت کرنے میں ناکام رہے ہیں اسی وجہ سے انہیں نشانہ بنایا جارہا ہے۔

اگرچہ ان حملوں کے بعد کچھ دیگر واقعات بھی پیش آئے تاہم اس ایک سال کے عرصہ کے دوران کوئی بڑی نوعیت کا واقعہ پیش نہیں آیا۔ حال ہی میں سنٹرل جیل بنوں سے تین سو سے زائد قیدیوں کو بغیر کسی ظاہری مزاحمت کے آزاد کرایا گیا جن میں بعض ایسے شدت پسند بھی شامل ہیں جن کا تعلق القاعدہ سے ظاہر کیا گیا ہے۔

پشاور کے سنئیر صحافی اور مصنف عقیل یوسفزئی کا کہنا ہے کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت سے القاعدہ تنظیم پر کسی قسم کا کوئی اثر نہیں پڑا ہے بلکہ وہ بدستور ایک مضبوط عالمی نیٹ ورک کی شکل میں موجود ہے جس سے پاکستان میں چالیس سے زائد عسکری تنظمیں منسلک ہیں۔

انہوں نے کہا ’میرے خیال میں آج کل پوری دنیا میں پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں القاعدہ کا تنظیمی ڈھانچہ سب سے زیادہ فعال ہے اور یہاں سرگرم تمام عسکری اور مذہبی تنظیموں سے اس کے کسی نہ کسی شکل میں راوبط موجود ہیں ۔‘

انہوں نے کہا کہ بنیادی طور پر گوریلا تنظیمیں کسی ایک یا دو رہنماؤں کی مرہونِ منت نہیں ہوتی ہیں بلکہ یہ نظریاتی تنظمیں ہوتی ہیں جو اپنے مقاصد کے حصول تک اپنا کام جاری رکھتی ہیں۔

لیکن دوسری طرف اسامہ بن لادن کی ہلاکت نے القاعدہ تنظیم کو پاکستان میں عسکری تنظیموں کے درمیان اپنے آپس کے اختلافات ختم کرنے کے لیے ایک جواز بھی فراہم کیا جس سے یہاں عالمی تنظیم کی جڑیں مزید مضبوط ہوئیں ہیں۔

قبائلی علاقوں اور خیبر پختون خوا میں سرگرم عسکری اور کالعدم تنظیموں تحریک طالبان پاکستان، حافظ گل بہادر اور ملا نذیر گروپ کے درمیان پہلے اختلافات کی خبریں عام تھیں اور یہ تنظیمیں ایک دوسرے کے جنگجوؤں کو اپنے اپنے علاقوں میں گھسنے بھی نہیں دیتی تھیں لیکن القاعدہ کے سربراہ کی ہلاکت نے ان گروہوں کو آپس میں اتحاد کرنے پر مجبور کیا اور اب بظاہر یہ تنظیمیں متحد نظر آتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption القاعدہ کے سابق سربراہ جس مکان میں رہائش پذیر تھے اسے چند ماہ قبل منہدم کردیا گیا

دفاعی امور کے تجزیہ نگار بریگیڈیر سعد کا کہنا ہے کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت سے القاعدہ اور پاکستانی عسکری تنظیموں کے روابط میں کوئی فرق نہیں پڑا ہے بلکہ وہ بدستور قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ القاعدہ کو پاکستان میں اپنے ’عالمی جہاد‘ کے ایجنڈے کے حصول کے لیے مقامی تنظیموں کی ضرورت ہے جو اسے مذہبی اور جہادی تنظیموں کی صورت میں یہاں ملی ہوئی ہے۔

تاہم دوسری طرف پشاور یورنیورسٹی میں شعبہ بین الاقوامی تعلقات عامہ کے پروفیسر ڈاکٹر حسین شہید سہروردی کا کہنا ہے کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت سے نہ صرف پاکستان میں دہشت گردی کی واقعات میں کمی آئی ہے بلکہ القاعدہ تنظیم بھی جمود کی کیفیت سے دوچار نظر آتی ہے۔

انہوں نے کہا ’جب بھی کسی تنظیم کا بانی سربراہ مارا جاتا ہے تو وہ تنظیم کافی عرصہ تک جمود کی سی کیفیت کا شکار ہوجاتی ہے اور شاید یہی کچھ القاعدہ کے ساتھ بھی ہورہا ہے۔‘

ان کے مطابق اگر دو مئی کے واقعہ کے بعد سے ہونے والے واقعات کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان اور بالخصوص فاٹا اور پختون خوا میں دہشت گردی کی کاروائیوں میں کافی حد تک کمی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں بھی طالبان اور امریکہ کے مذاکرات سے القاعدہ کو شدید دھچکا پہنچا ہے اور وہاں بھی طالبان اب القاعدہ سے بظاہر اپنا ناطہ توڑ رہے ہیں۔

اسی بارے میں