باجوڑ دھماکہ: پانچ ہلاک،دو زخمی

پاکستان میں دھماکے کی ایک فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ہلاک ہونے والوں میں دو عام شہری بھی ہلاک ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ دو ریموٹ کنٹرول بم دھماکوں میں تین سکیورٹی اہلکاروں سمیت پانچ افراد ہلاک اور دو زخمی ہوگئے ہیں۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق یہ دھماکے جمعرات کی صبح آٹھ بجے کے قریب پاک افغان سرحد کی ایک تحصیل چمرقند میں ہوئے۔

باجوڑ کے ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ ریموٹ کنٹرول بم سڑک کے کنارے ایک دکان کے قریب نصب کیے گئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ پہلے دھماکے سے کوئی نقصان نہیں ہوا لیکن اس واقعہ کے بعد جائے وقوعہ پر سکیورٹی اہلکار اور عام شہری بڑی تعداد میں جمع ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران تقریباً بیس منٹ کے وقفے کے بعد ایک اور دھماکہ ہوا جس سے وہاں موجود پانچ افراد ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔

ہلاک ہونے والوں میں دو ایف سی، ایک خاصہ دار فورس کے اہلکار اور دو عام شہری شامل ہیں۔ زخمیوں کو ایجنسی ہیڈکوارٹر ہپستال خار منتقل کردیا گیا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں دو طالبان مخالف مقامی لشکر کے افراد شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بظاہر تو لگتا ہے کہ حملوں کا ہدف حکومتی حامی لشکر کے افراد تھے۔

خیال رہے کہ چمر قند تحصیل پاک افغان سرحد سے تقریباً تین چار کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

باجوڑ ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے شدت پسند تنظیموں کے خلاف کاروائیوں کے بعد سکیورٹی کی صورتحال کافی حد تک بہتر ہوئی ہے۔

اس سے پہلے ایجنسی میں کئی برس تک امن و امان کی صورتحال انتہائی خراب رہی جبکہ اس دوران چار لاکھ کے قریب افراد بھی بے گھر ہونے پر مجبور ہوگئے تھے۔ تاہم اب زیادہ تر متاثرین اپنے اپنے علاقوں کو واپس جاچکے ہیں لیکن علاقے کے ایک بڑی تعداد اب بھی متاثرہ کیمپوں میں مقیم ہیں۔

باجوڑ جانے والے اکثر متاثرین کا کہنا ہے کہ علاقے میں بدستور غیر یقینی کی کفیت بر قرار ہے جبکہ کاروبار سرگرمیاں بھی پوری طرح بحال نہیں ہوسکی ہے۔

اسی بارے میں