’پاکستان صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ملک‘

پاکستانی صحافی فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان کے مختلف شہروں میں صحافیوں نے تقاریب منعقد کیں اور جلوس نکالے

عالمی یوم آزادی صحافت کے موقع پر انٹرنیشنل یونین آف جرنلسٹ یعنی آئی ایف جے نے پاکستان کو صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ملک قرار دیا ہے جبکہ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کے مطابق گزشتہ برس میکسیکو کے بعد سب سے زیادہ صحافی پاکستان میں قتل کیے گئے۔

لاہور سے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق عالمی یوم آزادی صحافت کے موقع پر پاکستان کے مختلف شہروں میں صحافیوں نے تقاریب منعقد کیں اور جلوس نکالے۔

لاہور پریس کلب کے سامنے بھی ایک احتجاجی مظاہرہ ہوا جس میں چند درجن صحافیوں نے نعرے بازی کی۔لاہور کے لبرٹی چوک کے قریب الیکٹرانک میڈیا ایسوسی ایشن یعنی ایمرا کے کارکنوں نے موم بتیاں جلا کر ہلاک ہونے والے صحافیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ایمرا کے صدر تنویر شہزاد نے کہا کہ جان کے خطرے کے باوجود صحافی اپنا فرض ادا کرتے رہیں گے۔

پاکستان میں صرف سال دو ہزار بارہ کے چار مہینوں میں دو صحافیوں کو قتل کیا جاچکا ہے جبکہ گزشتہ سال یہ تعداد سولہ تھی۔انٹرنیشنل یونین آف جرنلسٹس یعنی آئی ایف جے نے پاکستان کو صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ملک قرار دیا ہے۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صحافیوں کو زیادہ تر مشکلات کا سامنا فاٹا، بلوچستان، اندرون سندھ اور خیبر پختونخوا کے ان علاقوں میں کرنا پڑتا ہے جہاں امن و امان کے حالات کافی سنگین ہیں۔

پی ایف یو جے کے عہدیدار پرویز شوکت نے کہا کہ پاکستان میں صحافیوں کو اغوا، دھمکیوں، حملوں، دھونس اور دہشت کا ہر وقت سامنا رہتا ہے جس کے باعث بہت سے صحافیوں نے اپنی خبروں میں خود سے کانٹ چھانٹ شروع کر دی ہے تا کہ وہ متحارب گروہوں کے غیظ و عضب کا نشانہ نہ بن جائیں۔

انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو دیگر جن مسائل کا سامنا ہے ان میں کم اجرت، برطرف کیے جانے کا خطرہ، اور کام کرنے کی مناسب سہولیات کا نہ ہونا بھی شامل ہے۔

پاکستان میں صحافی تنظیموں کا کہنا ہے کہ جان کے خطرے کے علاوہ بھی صحافی مختلف قسم کے دباؤ کا شکار ہیں۔

لاہور پریس کلب کے سانے ہونے والے مظاہرے میں شریک پنجاب یونین آف جرنلسٹس کے ایک عہدیدار محمد عاصم حسین نے کہا کہ صحافت کی آزادی پر سب سے پہلے پابندی تو میڈیا مالکان ہیں، پھر خود میڈیا کے اندر پریشر گروپ ہیں، اس کے بعد معاشرے میں پھیلے پریشر گروپ ہیں اور سب سے بڑا پریشرگروپ اشتہارات دینے والے سرمایہ دار گروپ ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہر کسی کے خلاف خبر شائع ہوجاتی ہے لیکن اشتہاری پارٹی کے بارے میں کوئی جرآت نہیں کرتا کیونکہ اس سے میڈیا مالک کو آمدن ہو رہی ہوتی ہے۔

ادھر لاہور کی ایک عدالت نے دنیا ٹی وی چینل نیوز کی انتظامیہ کو ایک صحافی ابصار عالم کے تمام واجبات بمعہ منافع ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ سول جج نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ ادارہ انکم ٹیکس ادائیگی کا سرٹیفیکیٹ جاری کرے۔ابصار عالم نے اس فیصلہ کو تاریخی قرار دیا ہے۔

بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس کے مطابق گزشتہ برس پاکستان میں سولہ صحافیوں کے قتل کے علاوہ سب سے زیادہ اٹھارہ صحافی میکسیکو میں اور گیارہ صحافی شام میں ہلاک ہوئے۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون اور یونیسکو کے ڈائریکٹر جنرل ایرینا بوکوف نے عالمی یوم آزادی صحافت کے موقع پر جاری کردہ اپنےمشترکہ بیان میں حالیہ ایک سال میں باسٹھ صحافیوں کی ہلاکت کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ نہ تو ان صحافیوں کو بھلایا جاسکتا ہے اور نہ ان کے قتل کے جرم کو نظر انداز کیا جاسکتا ہے۔