باجوڑ ایجنسی: خودکش حملے میں بیس افراد ہلاک

فائل فوٹو، خیبر ایجنسی میں بم دھماکہ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption باجوڑ ایجنسی میں پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران یہ تیسرا دھماکہ ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں حکام کے مطابق ایک مبینہ خودکش حملے میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت بیس افراد ہلاک اور چھالیس زخمی ہو گئے۔

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان اور باجوڑ ایجنسی میں تنظیم کے ترجمان قاری عمر نے الگ الگ بی بی سی کو فون کر کے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مطابق یہ ایک خودکش حملہ تھا۔

ہلاک ہونے والوں میں باجوڑ لیویز کے کمانڈنٹ اور ڈپٹی کمانڈنٹ بھی شامل ہیں۔

مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار کے مطابق یہ واقعہ جمعہ کی صبح باجوڑ کے صدر مقام خار بازار میں پیش آیا۔

باجوڑ کے ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ باجوڑ لیویز کے کمانڈنٹ اور ڈپٹی کمانڈنٹ خار بازار سے گزر رہے تھے کہ اس دوران ایک دھماکہ ہو گیا۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ ایک خودکش حملہ تھا جس میں باجوڑ لیویز کے کمانڈنٹ سمیت بیس افراد ہلاک اور چھیالیس زخمی ہو گئے ہیں۔

اہلکار کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں لیویز کے کمانڈنٹ صوبیدار میجر محمد جاوید، ڈپٹی کمانڈنٹ فضل ربی، سرکاری محرر فدا محمد، مقامی ٹھیکیدار اور عام شہری شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ واقعہ کے بعد سکیورٹی فورسز نے خار بازار کو چاروں اطراف سے گھیرے میں لے کر کرفیو نافذ کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ بازار سے کافی دیر تک فائرنگ کی آوازیں آتی رہی۔

ان کے مطابق کرفیو کی وجہ سے خار بازار فوری طور پر بند ہوگیا جس کی وجہ سے دکاندار اور عام شہری دکانوں اورگھروں کے اندر محصور ہوگئے ہیں۔

باجوڑ کے مقامی صحافیوں کے مطابق ڈپٹی کمانڈنٹ فضل ربی کو شدت پسندوں کے خلاف کامیاب کارروائیوں پر تمغۂ شجاعت سے بھی نوازا گیا تھا۔

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے قبول کرلی تھی۔

انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’خودکش حملہ‘ لیویز کے ڈپٹی کمانڈنٹ فضل ربی پر گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ڈپٹی کمانڈنٹ فضل ربی کے بھائی سید الرحمان کے مطابق خودکش حملہ آور نے خود کو ایک دکان میں دھماکے سے اڑا دیا

انہوں نے کہا کہ فضل ربی نے چند ماہ پہلے ایک عرب جنگجو شیخ مروان کو ہلاک کر دیا تھا اور یہ حملہ اس کا ردعمل تھا۔

دریں اثناء باجوڑ ایجنسی میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان کے ترجمان قاری عمر(مولوی فقیر گروپ) نے بھی قبول کی ہے۔

قاری عمر کے مطابق اس حملے میں ان کا ہدف ڈپٹی کمانڈنٹ فضل ربی تھے۔

خیال رہے کہ باجوڑ ایجنسی میں پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران یہ تیسرا دھماکہ ہے۔

جمعرات کو پاک افغان سرحدی تحصیل چمرکند میں بھی بیس منٹ کے وقفے کے دوران دو دھماکے ہوئے تھے جس میں قبائلی مشران اور سکیورٹی اہلکاروں سمیت پانچ افراد ہلاک اور دو زخمی ہوئے تھے۔

اس دھماکے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے قبول کرلی تھی۔

ان کاکہنا تھا کہ دھماکے کا ہدف قبائلی لشکر کے افراد تھے۔

اسی بارے میں