لیاری آپریشن، مکینوں کی مشکلات

لیاری آپریشن: فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ ap
Image caption لیاری میں پولیس آپریشن کی وجہ سے وہاں کے مکینوں کی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے

پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی شہر کراچی کی قدیم آبادی لیاری ایک ہفتے سے پولیس کے محاصرے میں ہے۔ بیس لاکھ لوگ اس آپریشن سے براہ راست متاثر ہوئے ہیں جب کہ یومیہ اُجرت پر کام کرنے والے تقریبا تین لاکھ افراد گھروں میں قید ہیں۔

لیاری کی روز مرّہ زندگی پر چند تصاویر

ممتاز سماجی کارکن عبد الستار ایدھی نے کراچی پریس کلب میں سماجی کارکنوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں اس بات کا انکشاف کیا کہ پولیس انہیں بھی علاقے میں پھنسے ہوئے لوگوں کی مد سے روک رہی ہے۔

ایدھی نے کہا کہ غزہ اور بیروت جسے علاقوں میں مجھے کسی نے امدادی کام کرنے سے نہیں روکا لیکن اپنے ہی شہر میں لوگوں کی مدد سے یہ کہہ کر روکا جارہا ہے کہ آپ کی جان کو خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے جیسے پولیس منظم انداز میں لیاری پر ٹوٹ پڑی ہے۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر پولیس آپریشن نہ روکا گیا تو مزید معصوم جانوں کا زیاں ہوسکتا ہے۔

دو سو سے زائد سرکاری اور پرائیوٹ تعلیمی ادارے ایک ہفتے سے بند ہیں۔ فائرنگ کی گنج گرج نے سب سے زیادہ بچوں کو متاثر کیا ہے اور زیادہ تر بچے دوطرفہ فائرنگ کی زد میں آتے ہیں۔آپریشن کے چھٹے روز جب لیاری کے مکین آٹھ چوک پرمظاہرہ کر رہے تب پولیس کی بکتر بند گاڑی نے ایک بچے کو کچل ڈالا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ لیاری کے علاقے چیل چوک میں پولیس کے داخل ہونے کا منظر کسی مفتوحہ علاقے سے مختلف نہیں۔ کوئی دوازہ،گھر اور بجلی کا کھمبا ایسا نہیں جس پر گولیوں کے نشانات نہ ہوں۔ ایک ہفتے سے محصور لیاری کے لاکھوں افراد انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا شکار ہیں۔

آپریشن کے چھٹے روز جب میں لیاری کی مختلف گلیوں سے گزر رہا تھا کہ ایک گھر کے اندر بہت تکلیف دہ منظر دیکھا، وہاں پڑی ایک میت کو غسل دینے کے لیے پانی تک نہیں تھا۔

غیر سرکاری تنظیم عورت فاؤنڈیشن کی رہنما عظمی نورانی نے کہا کہ صورت حال کی خرابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ لیاری کے تمام چھوٹے بڑے طبی مراکز بند ہیں، نہ تو زخمی کا علاج ہوتا ہے اور نہ ہی علاقے سے باہر لوگوں کو جانے دیا جاتا ہے۔ خسرہ، اسہال اور ملیریا سمیت دیگر وبائی امراض پھوٹ پڑے ہیں جب کہ سب سے زیادہ اثر حاملہ خواتین پر ہوا ہے۔

سندھ پولیس کے سربراہ مشتاق شاہ نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے لیاری آپریشن کے خاتمے کا اشارہ تو دیا لیکن پولیس کو حاصل ہونے والی کسی کامیابی کا ذکر نہیں کیا۔

گزشتہ روز ایک سینیئر پولیس افیسر نے لیاری کے پچھتر فیصد علاقے کو اپنے کنٹرول میں لینے کا دعویٰ کیا لیکن عملاً پولیس آج بھی وہاں کھڑی ہے جہاں ایک ہفتہ قبل تھی۔ اب تک ایسی کوئی چیز نہیں جسے پولیس اپنی کامیابی کے طور پر پیش کرسکے۔ آپریشن کے ساتویں روز افشانی گلی میں مقامی ٹی وی کی وین پر پولیس نے اس وقت حملہ کیا جب وہ علاقے کی کوریج کر کے واپس آ رہی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پولیس نے ابھی تک کسی بھی قسم کی کوئی کامیابی کا ذکر نہیں کیا ہے

پولیس کا موقف ہے کہ کالعدم امن کمیٹی نے علاقہ مکینوں کو یرغمال بنایا ہے اسی لیے علاقے میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی میں رکاوٹ پیش آ رہی ہے۔ اگر حقیقت یہی ہے تو پھر پولیس کے پاس علاقے کو جرائم پیشہ افراد سے پاک کرنے کا متبادل منصوبہ کیا ہے۔ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب حکام کے پاس نہیں۔

کیا محاصرے، بجلی، گیس، پانی کی بندش اور اشیاء خورد و نوش کی عدم دستیابی کے ذریعے قانون نافذ کرنے والے ادارے اس جنگ کو جیت سکیں گے۔

لیاری میں حساس تصور کیے جانے والے علاقے سنگھولین کے مکینون نے بتایا کہ پولیس گردی بند نہ ہوئی تو علاقے کے عوام ان کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں گے۔

لیاری سے پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی نبیل گبول پولیس آپریشن کی ناکامی کا اعترف کرتے ہوئے رینجرز کے ذریعے کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن کیا رینجرز کی حکمت عملی پولیس سے مختلف ہوگی۔

پولیس جرائم پیشہ افراد کی سرکوبی چاہتی ہے اور یہ پولیس کا فرض بھی ہے لیکن چند جرائم پیشہ افراد کی سزا لاکھوں معصوموں کو دینا کہاں کی دانشمندی ہے۔ حکومت نے لیاری سے نقل مکانی کرنے والوں کے لیے جو کیمپ قائم کیے تھے ان کی طرف کوئی نہیں گیا۔ آل کراچی تاجر اتحاد کے سرابرہ عتیق میر نے کہا کہ لیاری اپنے محل وقوع کے اعتبار سے کراچی کا انتہائی اہم علاقہ ہے۔ لیاری سے متصل اولڈ سٹی ایریا میں شہر کے تمام بڑے تجارتی مراکز ہیں اور یہاں حالات کی خرابی پورے شہر کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔

اسی بارے میں