وکیل نے جج کو جوتا مار دیا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر فیصل آباد میں ایک وکیل نے مقدمے کا فیصلہ حق میں نہ دینے پر جج کو جوتا مار دیا۔

اس واقعے کے بعد فیصل آباد کے ججوں نے عدالتی کام چھوڑ دیا جبکہ متعلقہ وکیل کی رکنیت معطل کر دی گئی۔

فیصل آباد کی ضلعی بار ایسوسی ایشن کے نائب صدر افضل ڈوگر نے بی بی سی کے نامہ نامہ نگار عبادالحق کو بتایا کہ یہ واقعہ سنیچر کو ایڈیشنل سیشن جج اسد علی کی عدالت میں پیش آیا۔

چودھری مسعود احمد نامی وکیل نے مقدمے کی ایک عدالت سے دوسری عدالت منتقلی کی درخواست دائر کی تھی جسے ایڈیشنل سیشن جج اسد علی نے مسترد کردیا۔

ضلعی بار کے عہدیدار کے مطابق چودھری مسعود کی ایڈیشنل سیشن جج کے ساتھ درخواست مسترد کرنے پر تلخ کلامی ہوئی جس کے بعد وکیل نے جج کو جوتا مار دیا۔

واضح رہے کہ کسی وکیل کی جانب سے جج کے ساتھ بدتمیزی کا یہ تیسرا واقعہ ہے جو گزشتہ چھ ماہ کے دوران فیصل آباد کی ضلعی بارایسوسی ایشن میں پیش آیا ہے۔

ادھر فیصل آباد کی ضلعی بار ایسوسی ایشن کے صدر منور سندھو نے بی بی سی کو بتایا کہ جج کے ساتھ بدتمیزی کرنے والے وکیل کی بار ایسوسی ایشن کی رکنیت معطل کردی گئی ہے اور بار کا اجلاس سات مئی کو طلب کرلیا گیا ہے۔

فیصل آباد بار ایسوسی ایشن کے نائب صدر افضل ڈوگر نے بتایا کہ سات مئی کو ہونے والے اجلاس میں اس بارے میں فیصلہ کیا جائے گا کہ اس طرح کے واقعات پر کس طرح قابو پایا جاسکے اور بدتمیزی کرنے والے و کلا کے خلاف کیا کارروائی عمل میں لائی جائے۔

اسی بارے میں