سپریم کورٹ، ایڈہاک ججوں کی تعیناتی کی مخالفت

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption الجہاد کیس کے فیصلے کے تحت ججوں کی مستقل اسامی کی موجودگی میں ایڈہاک جج کی تقرری نہیں ہو سکتی: وکلا رہنما

پاکستان میں وکلاء کی نمائندہ تنظیموں نے چیف جسٹس پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری کی طرف سے سپریم کورٹ میں ایڈہاک اور قائم مقام جج مقرر کرنے کی تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔

سنیچر کو یہ اعلان پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین اختر حسین نے وکلا کی نمائندہ تنظیموں کے ایک اجلاس کے بعد کیا۔

وکلا نمائندہ تنظیموں کے اجلاس میں پاکستان بار کونسل، چار صوبائی بار کونسلز کے ساتھ ساتھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشنز کے عہدیداروں نے بھی شرکت کی۔

پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین اختر حسین نے کہا کہ آئین اور سپریم کورٹ کے الجہاد کیس کے فیصلے کے تحت ججوں کی مستقل اسامی کی موجودگی میں ایڈہاک جج کی تقرری نہیں ہو سکتی۔

آٹھ جج بھی اپیل سن سکتے ہیں: صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن

ججوں کی تعیناتی سینارٹی کے اصولوں پر ہونی چاہیے: عاصمہ جہانگیر

وکلاء کے موقف سے متفق نہیں ہوں: عابد حسن منٹو

وکیل رہنما کا کہنا ہے کہ ججوں کی اسامی کی موجودگی میں ایڈہاک جج کی تقرری عدلیہ کی آزادی کے منافی ہے۔

اختر حسین نے روز دیا کہ سب سے پہلے سپریم کورٹ کی خالی اسامی کو پر کیا جائے۔

بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق پاکستان میں وکلاء کی نمائندہ تنظیموں کا یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب چیف جسٹس پاکستان نے سپریم کورٹ میں ایڈہاک ججوں کی تقرری کے لیے جوڈیشل کمیشن کا سات مئی کو اجلاس طلب کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اجلاس میں سپریم کورٹ بار کے موجودہ صدر یاسین آزاد کے علاوہ سابق صدور عاصمہ جہانگیر اور طارق محمود بھی شریک ہوئے

پاکستان کونسل کے عہدیدار اختر حسین نے اس بات کو بھی نامناسب قرار دیا کہ وزیر اعظم گیلانی کے خلاف توہین عدالت کے کیس کا نہ تو ابھی تفصیلی فیصلہ آیا ہے اور نہ ہی اپیل دائر کی گئی ہے لیکن پہلے سے ہی ایڈہاک ججوں کی تقرری کے بارے میں بحث مباحثہ شروع ہوگیا ہے۔

اجلاس میں سپریم کورٹ بار کے موجودہ صدر یاسین آزاد کے علاوہ سابق صدور عاصمہ جہانگیر اور طارق محمود بھی شریک ہوئے۔

اختر حسین نے کہا کہ اجلاس میں شامل وکلا تنتظیموں کے نمائندوں کا یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ سپریم کورٹ کے کسی قسم کے ایڈہاک ججوں کی تقرری کے خلاف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئین کے تحت سپریم کورٹ میں ایڈہاک ججوں کی تعیناتی کی منظوری صدرِ پاکستان نے دینی ہوتی ہے اور وزیرِاعظم کے مشورے پر ایسا کیا جاتا ہے۔

پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین اختر حسین نے یہ خدشہ ظاہر کیا کہ ایڈہاک ججوں کی تعیناتی سے ایک ڈیڈ لاک پیدا ہو سکتا ہے۔

وائس چیئرمین نے کہا کہ وزیرِاعظم اگر اپیل دائر کرتے ہیں تو اس کے لیے سپریم کورٹ کا آٹھ رکنی بینچ سماعت کر سکتا ہے اور بات کی نظیر پہلے سے موجود ہے اس لیے بقول ان کے ایڈہاک جج مقرر کرنے کی ضرورت نہیں۔

اختر حسین نے کہا کہ ججوں کی تقرری کے لیے جوڈیشل وکلا کے مطالبے پر آئینی ترمیم کے ذریعے قائم کیا گیا تھا لیکن بقول ان کے جوڈیشل کمیشن ایک کمروز ادارہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کی کارروائی شفاف ہو اور کمیشن کے اجلاس کی کارروائی کے بارے میں بار کونسل کو علم ہونا چاہیے۔

وکلا کی نمائندہ تنظیموں کے اجلاس میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ جوڈیشل کمیشن کے رولز میں ترمیم کی جائے۔

پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن میں بلوچستان بار کونسل کا جو نمائندہ لیاگیا تھا وہ اس اہلیت پر پورا نہیں اترتے جو کمیشن کا رکن بننے کے لیے مقرر ہے اور وکلا تنظیموں کے مطالبے کے باوجود ابھی تک اس رکن کو کمیشن سے الگ نہیں کیا گیا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام ہائی کورٹس میں ججوں کی خالی اسامیوں کو پر کیا جائے اور نئے ججوں کی تقرری کے بارے میں بار کونسلوں سے رائے لی جائے۔

پریس کانفرنس سے سپریم کورٹ بار کے صدر یاسین آزاد نے کہا کہ اداروں کو انا کی جنگ نہیں بلکہ قانون کی جنگ لڑنی چاہیے۔

انہوں نے بلوچستان کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت اس بارے میں اپنا کردار ادا کرے اور پارلیمان کے اندر بلوچستان کے مسئلہ پر بات کی جائے۔

ایک سوال کے جواب میں پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین نے کہا کہ قانونی اعتبار سے یوسف رضا گیلانی سزا کے بعد وزیر اعظم کے عہدے پر فائز رہ سکتے ہیں کیونکہ بقول ان کے ابھی یوسف رضاگیلانی نے اپیل دائر کرنی ہے اور ان کی اہلیت کا فیصلہ سپیکر قومی اسمبلی نے کرنا ہے۔

ایک اور سوال پر سپریم کورٹ بار کے صدر یاسین آزاد نے کہا کہ وکلا نے لانگ مارچ کا اعلان نہیں کیا اس لیے کوئی سیاسی جماعت لانگ مارچ کا اعلان کرتی ہے تو وکلاء اس کا حصہ نہیں ہیں۔

اسی بارے میں