’فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی تشکیل غیر قانونی‘

تصویر کے کاپی رائٹ none
Image caption کورٹ مارشل کا سامنا کرنے والے فوجی افسر ان پر لگائے گئے الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

بغاوت کے الزام میں کورٹ مارشل کا سامنا کرنے والے پاکستانی فوج کے سینیئر افسر بریگیڈئیر علی کے وکیل نے اپنے موکل کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی تشکیل اور اس کے تحت اب تک ہونے والی کارروائی کے بارے میں کہا ہے کہ یہ قانونی طور پر کالعدم ہو چکی ہے۔

بریگیڈئیر علی کے وکیل ریٹائرڈ کرنل انعام الرحیم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ملٹری فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے صدر میجر جنرل محمد جعفر کو ایک درخواست دی ہے جس میں ان کے بقول یہ کہا گیا ہے کہ 30 کور کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل راحیل شریف نے بریگیڈیئر علی پر مقدمہ چلانے کے لیے نو دسمبر سنہ 2011 کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل تشکیل دینے کا حکم جاری کیا تھا جبکہ اس کے چار دن بعد تیرہ دسمبر کو مجاز افسران نے ان کے موکل کے خلاف چارج شیٹ پر دستخط اور تصدیقی دستخط کیے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ کور کمانڈر نے ملٹری فیلڈ جنرل کورٹ مارشل تشکیل دیتے وقت کسی چارج شیٹ کے بغیر اپنے حکم میں یہ کہا تھا کہ انہیں لگتا ہے کہ بریگیڈیئر علی جرائم کے مرتکب ہوئے ہیں۔

لیکن بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ملزم کے وکیل ریٹائرڈ کرنل انعام الرحیم نے کہا کہ پاکستان آرمی ایکٹ کے رول 28 کے تحت کورٹ مارشل تشکیل دینے والے مجاز افسر کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس بات کا پیشگی اطمینان کر لیں کہ جو فرد جرم عائد کی جا رہی ہے وہ اس ایکٹ کے مفہوم کے اندر رہتے ہوئے ہو اور ایسی شہادتیں موجود ہوں جو مقدمہ چلانے کے لیے جواز مہیا کرتی ہوں۔

انہوں نے کہا کہ اگر وہ ان امور کے بارے میں مطمیئن نہیں تو ایسی صورت میں وہ ملزم کو رہا کرنے کا حکم جاری کریں یا اس معاملے کو بالاتر حکام کے سپرد کریں۔

ملزم کے وکیل کے مطابق کورٹ مارشل تشکیل دینے والے مجاز افسر کو اس بات کا بھی اطمینان ہونا چاہیے کہ جو کورٹ مارشل تشکیل دیا جا رہا ہے یہ مقدمہ اس میں چلائے جانے کے لیے موضوع ہے یا نہیں۔

وکیل کا کہنا ہے کہ اس قانون کے اس افسر پر یہ بھی لازم ہے کہ وہ چارج شیٹ اور شواہد کے خلاصے کے علاوہ کورٹ مارشل تشکیل دینے کے حکم کی نقول کورٹ مارشل کے لیے مقرر کیے گئے صدر کو بھیجے۔

بریگیڈیئر علی کے وکیل نے ملٹری فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے صدر کو دی جانے والی درخواست میں کہا ہے کہ مجاز افسر لیفٹیننٹ جنرل راحیل شریف نے چارج شیٹ کے بغیر ہی فوجی عدالت کی تشکیل کے احکامات جاری کیے تھے جو پاکستان آرمی ایکٹ میں درج طریقے کار کی خلاف ورزی ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ ملٹری فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی تشکیل اور اس کے تحت اب تک ہونے والی کارروائی خود بخود کالعدم ہو چکی ہے اور اس معاملے کو فوجی عدالت تشکیل دینے والے مجاز افسر کے سپرد کیا جائے۔ لیکن فوجی عدالت نے ان کی درخواست کو مسترد کر دیا۔

واضح رہے کہ پاکستان کی فوج نے بریگیڈئیر علی پر کالعدم تنظیم حزب التحریر سے روابط، سول حکومت کے خلاف فوج میں بغاوت پھیلانے اور راولپنڈی میں واقع فوجی صدر دفتر یعنی جی ایچ کیو پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کے الزامات لگائے تھے۔ لیکن بعد میں فوجی حکام نے جی ایچ کیو پر حملے کا الزام واپس لے لیا تھا جس کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی گئی تھی کہ پہلے یہ الزام کیوں لگایا گیا اور بعد میں واپس کیوں لیا گیا۔

کورٹ مارشل کا سامنا کرنے والے فوجی افسر ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

اس سے پہلے لاہور ہائی کورٹ میں فوجی عدالت میں مقدمہ چلانے کے خلاف زیر سماعت بریگیڈیئر علی کی درخواست میں یہ موقف اختیار کر رکھا ہے کہ گزشتہ سال دو مئی کو ایبٹ آباد میں اسامہ کے خلاف امریکی کارروائی کے بعد جی ایچ کیو میں ہونے والے ایک اجلاس میں انہوں نے فوج کی اعلیٰ قیادت کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اس معاملے پر ناکامی قبول کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کریں اور خود انحصاری کے لیے اپنی مراعات واپس کردیں۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کانفرنس کے بعد انہیں حراست میں لے کر قیدِ تنہائی میں رکھا گیا تھا۔

درخواست میں بریگیڈیئر علی نے یہ موقف بھی اختیار کیا ہے کہ وہ گزشتہ سال جولائی میں ریٹائر ہو چکے ہیں لہٰذا ان کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا ہے اور فوجی عدالت میں ان کے خلاف چلایا جانے والا مقدمہ غیر قانونی ہے۔

اسی بارے میں