لیاری، ٹارگٹڈ ایکشن کیا جائے گا: رحمان ملک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے وفاقی وزیرِداخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ کراچی کے شورش زدہ علاقے لیاری میں اب آپریشن نہیں بلکہ جرائم پیشہ افراد کے خلاف ’ٹارگٹڈ ایکشن‘ کیا جائےگا۔

لیاری میں پولیس کی جانب سے جرائم پیشہ افراد کو دی جانے والی اڑتالیس گھنٹے کی مہلت اتوار کی رات بارہ بجے ختم ہورہی ہے۔

وزیر داخلہ رحمان ملک نے وزیرِ اعلٰی سندھ قائم علی شاہ کے ساتھ اتوار کو کراچی میں ایک اعلٰی سطحی اجلاس کی صدارت کی جس میں کراچی سمیت صوبہ سندھ میں امن و امان کی صورتِ حال کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پولیس کو لیاری میں شکست نہیں ہوئی بلکہ انہیں حکمتِ عملی کے تحت واپس بلایاگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لیاری میں آپریشن صرف چند گلیوں تک محدود تھا تاہم میڈیا نے اسے ایسے دکھایا جیسے پورے لیاری میں آپریشن ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جرائم میں ملوث افراد اڑتالیس گھنٹے کی ڈیڈلائن کے بعد بھی ہتھیار ڈال سکتے ہیں اور آئندہ چار سے پانچ روز میں صورتِ حال واضع ہو جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز امن کمیٹی کالعدم تنظیم ہے اور ان سے کوئی سیاسی بات نہیں ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ لیاری میں اب رینجرز موجود ہیں تو پھر وہ لوگ ان کے سامنے اپنے وعدے کے مطابق ہتھیار کیوں نہیں ڈال رہے؟

کراچی میں بی بی سی کے نامہ نگار حسن کاظمی کے مطابق رحمان ملک نے اتوار کی شام کو لی مارکیٹ سمیت کچھ علاقوں کا دورہ بھی کیا۔

واضح رہے کہ لیاری میں آٹھ روز آپریشن کرنے کے بعد پولیس نے جرائم پیشہ افراد کو ہتھیار ڈالنے کے لیے اڑتالیس گھنٹوں کی مہلت دی تھی جو اتوار کی رات بارہ بجے ختم ہو رہی ہے۔

اس موقعے پر انہوں نے تسلیم کیا کہ لیاری کا محاصرہ کرنا غلط تھا اور اسی لیے انہوں نے کراچی آ کر سب سے پہلے محاصرہ ختم کرنے کا حکم دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ لیاری میں آپریشن سے عوام کو تکلیف ہوئی جس کی وہ معافی مانگتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ لیاری میں بجلی کے نظام اور پانی کی فراہمی کے نظام کی بحالی کے لیے بھی کام جاری ہے اور جلد ہی بجلی اور پانی کا نظام معمول پر آجائے گا۔

ان کا کہناتھا کہ سب امن چاہتے ہیں اور امن کی خاطر جرائم پیشہ افراد کو پکڑنا بہت ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ قانون کے مطابق تمام جرائم پیشہ افراد سے نمٹا جائے گا اور کوئی ماورائے عدالت ہلاکت نہیں ہوگی۔

دوسری جانب آج بھی سندھ میں نیشنل پارٹی سمیت قوم پرست جماعتوں نے کراچی کے مختلف علاقوں میں لیاری آپریشن کے خلاف مظاہرہ کیا۔

اسی بارے میں