’نیٹو سپلائی بحال نہ ہوئی تو پابندیاں لگ سکتی ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

پاکستان کے وزیر دفاع چودھری احمد مختار نے کہا ہے کہ افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کو رسد کی فراہمی کے لیے راستہ نہ دیا گیا تو یہ عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی ہوگی اور راستہ روکنے پر پاکستان پر پابندیاں لگ سکتی ہیں۔

اتوار کو لاہور میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیر دفاع چودھری احمد مختار نے کہا کہ سیاچن کے مسئلے کو اس وقت کے حالات میں حل کرنا بہت مشکل ہے۔

پاکستانی وزیر دفاع کے بقول بھارت اس وقت سیاچن گلیشئر میں اونچائی پر ہے اور بھارت یہ سمجھتا ہے کہ وہ اونچائی پر ہونے سے بہتر پوزیشن پر ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان نے گزشتہ سال نومبر میں پاکستانی فوج کی سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو کے فضائی حملے کے بعد سے افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کو زمینی راستے سے رسد کی ترسیل پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

اس کے علاوہ پاک امریکہ تعلقات کے حوالے سے پاکستان کی پارلیمان سے منظور کردہ سفارشات میں حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کو اسلحے کی فراہمی کے لیے پاکستان کی سرزمین یا فضائی حدود استعمال نہیں ہوگی۔

حکومت اور فوج کے درمیان تعلقات کے بارے میں سوال پر چودھری احمد مختار کا کہنا تھا کہ دونوں میں کوئی اختلافات نہیں ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق وزیر دفاع نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ عدلیہ کی پیپلز پارٹی سے کوئی دشمنی ہے۔

ان کے بقول اس بات میں کوئی شک یا ابہام نہیں ہے کہ مسلم لیگ نون کے عدلیہ سے پرانے مراسم ہیں۔

ایک سوال پر چودھری احمد مختار نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کو استعفیٰ دینے کے لیے نہیں کہا گیا۔

وزیر دفاع کا کہنا ہے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف توہین عدالت کیس کے تفصلی فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں اور اس کے بعد آئندہ لائحہ عمل ترتیب دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد اپیل دائر کریں گے اور اگر اپیل پر فیصلہ مخالف آتا ہے تو پھر وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو مستعفیٰ ہونا پڑے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان نے گزشتہ سال نومبر سے نیٹو سپلائی پر پابندی عائد کر رکھی ہے

ایک اور سوال پر وزیر دفاع نے کہا کہ امریکہ سے بار بار یہ کہا کہ وہ ڈرون حملے مت کرے اور پاکستان کے ساتھ ملکر ڈرون حملہ کیا جائے لیکن امریکہ نے بات نہیں مانی۔

نئے صوبوں کے قیام کے بارے میں سوال پر وزیر دفاع چودھری احمد مختار نے کہا کہ نئے صوبوں کی تشکیل سے جزوی طور پر مسائل حل ہوں گے اور لوگوں کے مسائل ان کے گھروں کے نزدیک حل ہوں گے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما اور وفاقی وزیر دفاع نے کہا کہ سابق وزیر قانون ڈاکٹر بابر اعوان کا مستقبل اس وکیل جیسا ہے جس کی وکالت ختم ہو جائے ۔ ان کے بقول سینیٹر بابر اعوان کو اب وہ مقدمات نہیں ملیں گے جو اس سے پہلے ملتے تھے۔

اسی بارے میں