فرینڈز آف لیاری کے سربراہ لندن پہنچ گئے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

کراچی میں لیاری آپریشن کے دوران پولیس کو مطلوب فرینڈز آف لیاری کے سربراہ حبیب جان لندن پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ہیں، ان کا نام حکومت پاکستان نے ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

لندن سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے حبیب جان نے وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک سے مطالبہ کیا کہ اب انہیں اخلاقی طور پر مستعفی ہوجانا چاہیے کیونکہ ان کے کہنے پر کراچی ان کا نام ای سی ایل میں شامل کیا گیا تھا، مگر وہ لندن پہنچ گئے ہیں۔

لیاری میں آٹھ روز تک پولیس نے مبینہ گینگ وار اور بھتہ خوروں کے خلاف آپریشن کرنے کا دعویٰ کیا تھا، جو کوئی کامیابی نہ ملنے پر اچانک بند کردیا گیا تھا۔

اس آپریشن کے سربراہ ایس ایس پی سی آئی ڈی چوہدری اسلم کا کہنا تھا کہ حبیب جان قتل اور اقدام قتل کے سات مقدمات میں مطلوب ہے۔

حبیب جان پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی اسمبلی کے لیے امیدوار، پارٹی کی صوبائی کونسل کے رکن رہے ہیں۔ ان کا شمار کالعدم پیپلز امن کمیٹی کے رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ عبدالرحمان بلوچ عرف رحمان ڈکیت کی ایک مشتبہ مقابلے میں ہلاکت کے بعد حبیب جان نے کھل کر اپنا اور پارٹی کا تعلق ان سے ظاہر کیا تھا۔

سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر ذوالفقار مرزا جب مستعفی ہونے کے بعد لندن پہنچے تھے تو حبیب جان ہی ان کے میزبان تھے، وہ برطانوی شہریت بھی رکھتے ہیں۔

حبیب جان نے بتایا کہ لندن سے ان کے دوستوں نے انہیں آگاہ کیا تھا کہ ان کی زندگی کو خطرہ ہے اس لیے وہ فوری نکل جائیں، جس کے بعد عزیز جان بلوچ نے بزرگوں کا اجلاس طلب کیا، جس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ انہیں کراچی چھوڑ دینا چاہیئے۔’ میں نے زندگی بھر مال نہیں دوست بنائے تھے، جن کی وجہ سے آج اپنے خاندان کے پاس موجود ہوں۔‘

پاکستان سے بیرون سفر پر پابندی کے باجود وہ لندن کیسے پہنچے، حبیب جان کا کہنا ہے کہ پانچ روز تک انہوں نے بری، بحری اور فضائی سفر کیا ہے، وہ کراچی سے بلوچستان پہنچے جہاں سے ایران، افغانستان اور دبئی سے ہوتے ہوئے لندن پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

لندن میں پاکستان ہائی کمیشن کے سامنے لیاری آپریشن کے خلاف منگل کو احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ حبیب جان اس کی قیادت کریں گے، ان کا کہنا تھا کہ لیاری کے مظلوم لوگوں کا مقدمہ وہ ہر فورم پر اٹھائیں گے۔

حبیب جان کا کہنا ہے کہ رحمان ملک کے پاس بھی برطانوی شہریت ہے انہوں نے ان کے خلاف کارروائی کے احکامات کس بنیاد پر دیئے اس حوالے سے وہ قانونی مشورہ کر رہے ہیں۔

کالعدم پیپلز امن کمیٹی کے سربراہ عزیر بلوچ نے پچھلے دنوں پاکستان پیپلز پارٹی سے لاتعلقی اور مستقبل کا لائحہ عمل طے کرنے کا اعلان کیا تھا، حبیب جان کا کہنا ہے کہ وہ عزیز جان کے موقف کی حمایت کرتے ہیں۔

اسی بارے میں