’بی ایل اے کے کارکن نہیں طالب علم ہیں‘

لیاری آپریشن: فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پولیس کو لیاری آپریشن میں ابھی تک کوئی ٹھوس کامیابی نہیں ملی ہے

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز نے کراچی سے کالعدم تنظیم کے تین کارندوں کی گرفتاری کو ڈرامہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا کے سامنے پیش کیے جانے والے دراصل بلوچستان یونیورسٹی کے لاپتہ ہونے والے طالب علم ہیں جن کے متعلق بلوچستان ہائیکورٹ میں لواحقین کی جانب سے آئینی درخواست بھی دائر ہے۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئر مین نصراللہ بلوچ نے بی بی سی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کراچی کے علاقے لیاری میں آپریشن کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے جن تین افراد کو میڈیا کے سامنے لاکر دعویٰ کیا جا رہا کہ وہ بی ایل اے کے کارندے ہیں جھوٹ پر مبنی ہے۔

’یہ تینوں بلوچستان یونیورسٹی کے طالب علم عبدالغفار ولد عبدالجبار بگٹی، شمس الدین ولد لعل بخش بگٹی اور صیفل ولد احمدان بگٹی ہیں۔ ان کو کوئٹہ سے 18جنوری 2012ء کو لاپتہ کیا گیا تھا۔ ان کی گمشدگی کے حوالے سے ورثاء نے بلوچستان ہائیکورٹ میں پٹیشن بھی دائر کی تھی جبکہ گذشتہ دنوں سپریم کورٹ کی جانب سے کوئٹہ میں سماعت کے دوران جن 60 لاپتہ افراد کے کیس رجسٹرڈ کرائے گئے اس فہرست میں بھی ان کے نام شامل ہیں۔‘

نصر اللہ بلوچ نے کہا کہ پہلے ہمارے پیاروں کو ماورائے آئین و قانون لاپتہ کیا گیا پھر ان کی گولیوں سے چھلنی مسخ شدہ لاشیں دی گئیں اور اب جب عدلیہ کی جانب سے اداروں پر سختی کی گئی اور دباؤ ڈالا گیا تو جبری طور پر لاپتہ کیے جانے والے افراد کو منظر عام پر لاکر ان کا تعلق مسلح مزاحمتی تنظیموں سے جوڑا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انصاف کے اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو اس کا سختی سے نوٹس لینا چاہیے۔

انہوں کا کہنا تھا کہ اداروں کی جانب سے جبری طور پر لاپتہ کیے جانے والے افراد اور خاص طور پر کراچی میں منظر عام پر لائے جانے والے افراد کا مسلح تنظیم سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ تینوں طالب علم ہیں۔

اسی بارے میں