حافظ گل بہادر گروپ سے حکومتی معاہدہ خطرے میں

تصویر کے کاپی رائٹ

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں اتوار کے روز ہونے والا حملہ بظاہر طالبان نے مدرسہ حقانیہ اکوڑہ خٹک کے مدُرس مولانا شیخ نصیب خان کی ہلاکت کے بدلے میں کیا ہے۔

حکام کے مطابق گزشتہ روز طالبان شدت پسندوں نے سکیورٹی فورسز کے ایک قافلے کو نشانہ بنایا جس میں نو اہلکار ہلاک جبکہ دس زخمی ہوئے تھے۔ اس حملے سے دو دن پہلے حافظ گل بہادر گروپ کے مقامی طالبان نے مولانا شیخ نصیب خان کی ہلاکت کا بدلا لینے کا اعلان کیا تھا۔ حافظ گل بہادر گروپ کے ترجمان احمداللہ احمدی نے بتایا تھا کہ وہ مدرسہ حقانیہ اکوڑہ خٹک کے مدُرس مولانا شیخ نصیب خان کی ہلاکت کا بدلا بُہت جلد پاکسانی سکیورٹی فورسز سے لیں گے۔

مولانا شیخ نصیب خان کو اس واقعہ سے ایک ہفتہ پہلے نامعلوم افراد نے اکوڑہ خٹک سے اغواء کیا تھا اور بعد میں ان کی لاش ایک ویرانے سے ملی تھی۔

مولانا شیخ نصیب خان کا تعلق شمالی وزیرستان کے علاقہ شوہ سے تھا جبکہ ان کا دوسرا گھر افغانستان کی تحصیل برمل کے علاقے مرغہ میں بھی ہے۔ان دنوں اکوڑہ خٹک حقانیہ مدرسہ میں درس و تدریس کی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ مولانا شیخ نصیب خان کا حافظ گل بہادر اور ملاّ نذیر سے اچھے تعلقات تھے اور دونوں شدت پسند کمانڈر علاقے میں حکومت کے حامی لوگوں کے خلاف اکثر فتوے بھی ان سے ہی لیا کرتے تھے۔

قبائلی علاقوں میں پاکستانی فوج نے غیر ملکیوں کے خلاف اپنا ہدف حاصل کرنے کے لئے کئی بار مقامی طالبان کے ساتھ امن معاہدے کیے اور کئی بار یہ معاہدے ٹوٹ بھی گئے۔ البتہ تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ امن معاہدہ اس لئے زیادہ دیر نہیں چل سکا کیونکہ تحریک طالبان پاکستان کے جنگجو پاکستان کی حدود میں ہی کاروائیوں میں مصروف رہے۔

حکومت کا حافظ گل بہادر اور ملاّ نذیر کے گروہوں کے ساتھ دو ہزار سات سے ایک امن معاہدہ موجود ہے تاہم ان دونوں گروہوں نے امن معاہدے کے دوران کئی بار سکیورٹی فورسز کو اس وقت نشانہ بنایا جب ان کے کسی شخص یا ٹھکانے پر حملہ ہوا ہے۔

تاہم فریقین نے اس طرح کے تمام موقعوں پر امن معاہدہ ٹوٹنے نہیں دیا۔ ایک دو دن کی کشیدگی کے بعد قبائلی عمائدین اور علماء پر مُشتمل جرگے کی کوششوں سے حالت پر قابو پا لیا جاتا ہے۔

شمالی وزیرستان سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق اس بار بھی گزشتہ روز کے حملے کے بعد شمالی وزیرستان کے قبائلی عمائدین اور علماء پر مُشتمل ایک جرگے نے حکومت سے مذاکرات شروع کیے ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ امن معاہدہ برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

مبصرین کے خیال میں شمالی وزیرستان میں حکومت کسی بھی صورت میں حافظ گل بہادر کے ساتھ امن معاہدہ ٹوٹنے نہیں دینگے کیونکہ اگر حافظ گل بہادر کے ساتھ امن معاہدہ ٹوٹ گیا تو افغان کمانڈر جلال الدین حقانی نیٹ ورک کو شدید دھچکا لگے گا۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں غیر مُلکیوں کے علاوہ پاکستانی طالبان کے کئی گروپ موجود ہیں لیکن شمالی وزیرستان کوحافظ گل بہادر گروپ کے مقامی طالبان کا ایک مضبوظ گڑھ سمھجا جاتا ہے۔

گزشتہ چھ سات سالوں کے دوران کئی بار امن معاہدے طے پائے ہیں اور ٹوٹے بھی ہیں لیکن گزشتہ ایک سال سے شمالی وزیرستان میں حافظ گل بہادر گروپ کے مقامی طالبان اور جنوبی وزیرستان میں ملاّ نذیر گروپ کے مقامی طالبان کے ساتھ امن معاہدے برقرار ہیں۔

تاہم گزشتہ روز کے حملے کے بعد شمالی وزیرستان میں ایک بار پھر امن معاہدہ ٹوٹنے کی باتیں شروع ہوگئی ہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا حافظ گل بہادر کے ساتھ امن معاہدہ ٹوٹتا ہے یا برقرار رہتا ہے۔

اسی بارے میں