ممتاز بھٹو، نواز شریف کے ہمراہی پر رضا مند

mumtaz bhutto تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ممتاز بھٹو صدر آصف علی زرداری کے شدید مخالف تصور کیے جاتے ہیں۔

مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف ذوالفقار علی بھٹو کے کزن ممتاز علی بھٹو کو اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب ہوگئے ہیں، ممتاز بھٹو بدھ کو اپنی جماعت سندھ نیشنل فرنٹ کو مسلم لیگ ن میں ضم کرنے کا باضابطہ اعلان کریں گے۔

فرنٹ کے مرکزی رہنما ایوب شر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ رتو دیرو میں پارٹی کا ورکرز کنوینشن منعقد کیا گیا ہے، جس میں ممتاز بھٹو اپنی جماعت کو ضم کرنے کا اعلان کریں گے۔

ممتاز بھٹو آکسفورڈ سے گریجوئیٹ ہیں، انیس سو پینسٹھ میں وہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، بعد میں جب ان کے کزن ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان پیپلز پارٹی کے قیام کا فیصلہ کیا تو وہ ان کے ساتھ شامل ہوگئے۔ کہا جاتا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو انہیں ٹیلینڈ کزن کے نام سے پکارتے تھے۔

انیس سو ستر کے انتخابات میں ممتاز بھٹو نے صوبائی نشست سے کامیابی حاصل کی اور انہیں سندھ کا وزیراعلیٰ مقرر کیا گیا، ان کے دور حکومت میں جب سندھی کو سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا تو صوبے میں لسانی کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔

ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کی برطرفی کے بعد انہیں بھی گرفتار کیا گیا اور بعد میں وہ لندن چلے گئے، بینظیر بھٹو نے جب ان سے دوریاں رکھیں تو انہوں نے انیس سو پچاسی میں سندھی، بلوچ ، پشتون فرنٹ کے نام سے ایک تنظیم کا بنیاد رکھا اور اس کے بعد سندھ نیشنل فرنٹ کے نام سے تنظیم بنائی، جس کا منشور کنفیڈریشن تھا۔

ممتاز بھٹو انیس سو ترانوے میں ایک بڑے عرصے کےبعد رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے بعد میں انیس سو چھیانوے میں انہیں نگران وزیر اعلیٰ نامزد کیا گیا، جس کے بعد سے وہ حکومتی عہدے پر نہیں پہنچ سکے۔

ممتاز بھٹو صدر آصف علی زرداری کے شدید مخالف تصور کیے جاتے ہیں اس قدر کہ وہ ان پر ذاتی نوعیت کی بھی تنقید کرتے رہے ہیں، مرتضیٰ بھٹو کی پاکستان آمد پر وہ ان کے قریب رہے بعد میں ان کی ہلاکت پر انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی شہید بھٹو اور فرنٹ کے انضمام کی بھی کوشش کی۔

بھٹو قبیلے کے سردار کے قتل کے بعد ممتاز بھٹو قبیلے کے سردار بھی بنے گئے، مگر بینظیر بھٹو انہیں نہیں مانتی تھیں، ممتاز بھٹو سندھ میں اپنے سخت گیر مزاج کی وجہ سے مشہور ہیں، ان کی تنظیم پر بعض میڈیا گروپس کے خلاف کارروائیوں اور صحافیوں پر تشدد کا بھی الزام ہے۔

سینئر صحافی اور تجزیہ نگار جی این مغل سندھ نیشنل فرنٹ کی مسلم لیگ ن میں شمولیت کو مثبت قدم قرار دیتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ایک وفاقی سطح کی جماعت اور دوسری سندھ سطح کی تنظیم اگر آپس میں ملتی ہیں تو اچھا ہے، مگر دونوں جماعتوں نے جو معاہدے یا شرائط رکھی ہیں وہ عوام کے سامنے لانی چاہیئیں۔

فرنٹ کے مرکزی رہنما ایوب شر مسلم لیگ ن کے ساتھ مذاکرات میں شریک رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ دونوں جماعتوں میں یہ اتفاق ہوا ہے کہ اس ملک کو نظریہ پاکستان کے تحت چلایا جائے گا، صوبوں کی خود مختاری اور ان کے حقوق محفوظ ہوں گے۔ قومی مالیاتی ایوارڈ پر نظر ثانی کی جائے گی۔

دونوں جماعتوں کے انضمام سے فائدہ مسلم لیگ ن کو پہنچے گا یا ممتاز بھٹو کو۔ سینئر صحافی جی این مغل کا کہنا ہے کہ ’ممتاز بھٹو کے پیپلز پارٹی سے شدید اختلافات ہیں شاید انہوں نے سمجھا ہوا کہ اس طرح سے ان کی سیاسی تنہائی ختم ہوجائے، دوسرا ممتاز بھٹو ایک بڑا نام ہے مسلم لیگ اس کو کیش کرانا چاہتی ہوگئی۔‘

مسلم لیگ ن سندھ میں کوئی موثر موجودگی ظاہر نہیں کرسکی ہے، اس سے پہلے جنرل پرویز مشرف کی سیاسی ٹیم میں شامل لیاقت جتوئی، ماروی میمن اور سابق ڈسٹرکٹ ناظمہ ٹنڈو الہیار راحیلہ مگسی مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کرچکے ہیں۔ ممتاز بھٹو کی شمولیت کے کیا سندھ کی سیاست پر اثرات مرتب ہوں گے۔

تجزیہ نگار جامی چانڈیو کا خیال ہے کہ ’ممتاز بھٹو سیاسی شخصیت تو نامور ہیں مگر ان کی شخصیت اور جماعت کا کوئی موثر سرگرم کردار نظر نہیں آتا ، اگر سندھ کی سیاست پر کوئی فرق فرق پڑا تو وہ منفی نوعیت کا ہوگا کیونکہ فرنٹ کا منشور کنفیڈریشن تھا، جس میں وفاقی ڈھانچے کے ازسر نو تشکیل کا مطالبہ کیا گیا تھا۔‘

’حیرانگی کی بات ہے کہ انہوں نے مسلم لیگ ن میں شمولیت کی ہے جو نہ صرف رائٹ ونگ ہے بلکہ پاکستان میں قومی تضادات کے بارے میں اس کا کوئی موقف نہیں ہے، یہ ممکن ہے کہ ممتاز بھٹو کو شخصی طور پر مین اسٹریم سیاست میں آنے کے کچھ مواقع ملیں جو اس وقت نہیں دستیاب نہیں ہیں۔‘

دریں اثنا مسلم لیگ ن نے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف جاری احتجاجی تحریک میں سندھ کے قوم پرست رہنماؤں ڈاکٹر قادر مگسی اور ایاز لطیف پلیجو سے بھی ایک بار پھر مدد کی درخواست کی ہے، دونوں نے ان کی درخواست پر اپنی جماعت کی مجلس عاملہ کے اجلاسوں میں غور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

اسی بارے میں