’رقوم فوج کے نہیں آئی ایس آئی کے اکاؤنٹ میں آئیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عدالت نے رقوم کی تقسیم کے سلسلے میں جو دو کمیشن بنائے گئے تھے اُن کی رپورٹ دس مئی تک عدالت میں پیش کرنے کی مہلت دی ہے

پاکستان کی بری فوج کے سابق سربراہ جنرل ریٹائرڈ مرزا اسلم بیگ نے نوے کی دہائی میں سیاست دانوں میں مبینہ طور پر رقوم کی تقسیم کی تمام تر ذمہ داری اُس وقت کے آئی ایس آئی یعنی انٹر سروسز انٹیلیجنس کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی پر ڈال دی ہے۔

اس سے پہلے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درانی بھی اپنا بیان حلفی عدالت میں جمع کروا چکے ہیں جس میں اُن کا موقف ہے کہ اُس وقت کے آرمی چیف مرزا اسلم بیگ کی ہدایت پر سیاست دانوں میں چودہ کروڑ روپے تقسیم کیے تھے۔

بدھ کے روز سپریم کورٹ میں اس مقدمے کی سماعت کے سلسلے میں سابق آرمی چیف نے اپنا بیان جمع کروایا ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق بیان میں جنرل ریٹائرڈ اسلم بیگ نے کہا ہے کہ نہ تو اُنہوں نے سیاست دانوں میں رقوم تقسیم کیں اور نہ ہی اُنہوں نے ایسا کرنے پر سابق ڈی جی آئی ایس آئی پر کوئی دباؤ ڈالا۔

یاد رہے کہ پاکستانی فضائیہ کے سابق سربراہ اصغر خان نے آئی ایس آئی کی طرف سے مہران بینک اور حبیب بینک کے ذریعے سیاست دانوں میں مبینہ طور پر رقوم کی تقسیم کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس کی کچھ سماعتوں کے بعد اس درخواست کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا تھا اور دس سال کے بعد اس درخواست کی سماعت دوبارہ شروع ہوئی۔

اس درخواست کی سماعت چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا ایک بینچ کر رہا ہے۔

مرزا اسلم بیگ نے اپنے بیان میں موقف اختیار کیا کہ سیاست دانوں میں تقسیم کی گئی رقوم فوج کے نہیں بلکہ آئی ایس آئی کے اکاونٹ میں آئی اور اُنہوں نے اُس وقت کے صدر غلام اسحاق خان کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے مختلف بینکوں میں سیاست دانوں کے اکاونٹ کھلوائے اور اُن میں رقوم منتقل کیں۔

اس سے پہلے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درانی بھی اپنا بیان حلفی عدالت میں جمع کروا چکے ہیں جس میں اُن کا موقف ہے کہ اُس وقت کے آرمی چیف مرزا اسلم بیگ کی ہدایت پر سیاست دانوں میں چودہ کروڑ روپے تقسیم کیے تھے۔

اُن کے بقول اس سے مستفید ہونے والوں میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے علاوہ غلام مصطفیٰ جتوئی، جماعت اسلامی اور دیگر سیاسی جماعتیں مستفید ہوئی تھیں۔

سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل عرفان قادر کو سیاست دانوں میں رقوم کی تقسیم کے سلسلے میں جو دو کمیشن بنائے گئے تھے اُن کی رپورٹ دس مئی تک عدالت میں پیش کرنے کی مہلت دی ہے۔

وفاق کا اس ضمن میں موقف ہے کہ کمیشن کی رپورٹ دستیاب نہیں ہے جس پر عدالت کا کہنا ہے کہ محض بیان حلفی پر اس اہم درخواست کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔

گُزشتہ سماعت کے دوران وزیر داخلہ رحمان ملک نے اس مقدمے کے حوالے سے بطور ڈائریکٹر ایف آئی اے اپنی یادداشتوں پر مبنی ایک رپورٹ عدالت میں پیش کی تھی جس میں اُن کے یادداشت کے مطابق نواز شریف نے پانچ کروڑ جبکہ دیگر سیاست دانوں نے بھی لاکھوں روپے وصول کیے تھے تاہم عدالت نے وزیر داخلہ کی یادداشتوں پر مبنی رپورٹ کو ناقابل سماعت قرار دیا۔

اسی بارے میں