’کالعدم تنظیموں کے افراد پاکستان داخل‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے خفیہ اداروں نے خبردار کیا ہے کہ کالعدم تنظیموں، القاعدہ اور تحریک طالبان پاکستان کو دوبارہ موثر بنانے کے لیے ان تنظیموں سے تعلق رکھنے والے غیر ملکی افراد پاکستان کے قبائلی علاقوں میں داخل ہوئے ہیں جن میں ازبک، چیچن اور تاجک باشندے بھی شامل ہیں۔

ان افراد کے پاکستان آنے کا مقصد ان کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد کو عسکری تربیت اور شدت پسندی کی کارروائیوں کو مزید موثر بنانے کے علاوہ ان کی حوصلہ افزائی بھی کرنا ہے۔

اسلام آباد سے بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اس رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ پاکستان میں داخل ہونے والے غیر ملکیوں کی تعداد کتنی ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے پر اگرچہ غیر قانونی آمدو رفت روکنے کے لیے سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے تاہم سارے سرحدی علاقے پر نظر رکھنا ممکن نہیں ہے۔

وزارت داخلہ کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ سویلین خفیہ اداروں کی طرف سے بھیجی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان آنے والے ان غیر ملکی شدت پسندوں میں خواتین بھی شامل ہیں۔

خفیہ ایجنسیوں نے ان خواتین کی پاکستان آمد کے بارے میں کہا ہے کہ یہ کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والی خواتین کو نہ صرف خودکش حملوں کی تربیت دیں گی بلکہ کسی بھی ناگہانی صورت حال سے نمٹنے کے لیے بھی انہیں تربیت دی جائے گی۔

ذرائع کا کہناہے کہ نہ صرف ان دو کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد کو تربیت اور موجودہ صورت حال میں حکمت عملی اپنانے کے بارے میں تربیت دی جانی ہے بلکہ القاعدہ اور تحریک طالبان پاکستان کی حمایتی کالعدم تنظیوں کے ارکان کو بھی تربیت کے لیے بلایا جائے گا۔

وزارت داخلہ کے مطابق غازی فورس اور لشکر جھنگوی ان دنوں تحریک طالبان کے سب سے زیادہ قریب ہیں۔

خفیہ ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے شدت پسندوں کے خلاف جاری کارروائی کو دیکھتے ہوئے ان کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے مقامی افراد کو تربیت شہری یا دیگر بندو بستی علاقوں میں دی جائے گی جن میں پشاور، ڈیرہ اسماعیل خان اور حیدر آباد بھی شامل ہیں۔

وزارت داخلہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ خفیہ ایجنسوں نے اپنی رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ شدت پسندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے نتیجے میں القاعدہ اور تحریک طالبان پاکستان کے سرکردہ افراد کی ہلاکت کے بعد یہ تنظیمیں بڑی حد تک کمزور ہوچکی ہیں جس کی وجہ سے ان تنظیموں کے ارکان دل برداشتہ بھی ہیں اور ان غیر ملکی افراد کے پاکستانی علاقوں میں آنے کا مقصد مذکورہ تنظیموں کے ارکان کا حوصلہ بھی بڑھانا ہے۔

وزارت داخلہ نے چاروں صوبوں کے متعلقہ حکام کو ان افراد کی گرفتاری کے لیے تمام ممکنہ اقدام کرنے کی ہدایت کی ہے۔

اسی بارے میں