صحافیوں کا ویزے میں نرمی کا مطالبہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سیفما کے سیکریڑی جنرل امیتاز عالم نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ماحول قدرے بہتر ہوا ہے اور انہیں امید ہے کہ ان کا مطالبہ تسلیم کیا جائے گا۔

جنوبی ایشیاء اور پاکستان کے اخبارات کے مالکان اور ایڈیٹروں کی تنظیموں اور پاکستان کے درجنوں نامور صحافیوں نے ہندوستان اور پاکستان کی حکومتوں سے مشترکہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ وہ دونوں ملکوں کے صحافیوں کے لیے ویزہ کے طریقہء کار میں نرمی کریں تاکہ معلومات کے دو طرفہ تبادلے میں سہولت پیدا ہو۔

جنوبی ایشیاء کےصحافیوں کی تنظیم سیفما کے سیکریڑی جنرل امیتاز عالم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان اعتماد سازی، تعلقات بہتر کرنے، مسائل کے حل اور دونوں ممالک میں ایک دوسرے کے بارے میں پائے جانے والے منفی تاثر کو دور کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اطلاعات تک آسانی سے رسائی کے ساتھ ساتھ معلومات کا آزادانہ تبادلہ ہو۔

’اب (ہندوستان اور پاکستان کے) سیکریڑی داخلہ 25 مئی کو مل رہے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان ویزہ کا نیا معاہدہ ہونے جارہا ہے۔ پہلے بہت بے ہودہ معاہدہ تھا۔ ابھی وہ کاروباری افراد کو ایک سال کا ملٹیپل انٹری ویزہ دے رہے ہیں (یہ ایسا ویزہ ہے جس پر سال میں ایک سے زیادہ مرتبہ سفر کیا جاسکتا ہے)۔ ہم کہہ رہے کہ وہی (ویزہ) ہندوستان اور پاکستان کے صحافیوں کو بھی دیا جائے۔

امتیاز عالم نے کہا کہ صحافی پر پولیس کو اطلاع دینے کی پابندی ختم کی جائے اور ہر شہر میں جانے کی اجازت ہو اور یہ قدغن بھی ختم کی جائے کہ جس راستے یا ذریعے سے وہ دوسرے ملک کا سفر کرتے ہیں واپسی کے لیے بھی وہی راستہ استعمال کیا جائے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ یہ کس طرح سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بہتر کرنے میں مدد گار ثابت ہوسکتا ہے امتیاز عالم نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ’اطلاعات آئیں گی، ،منفی تاثر ختم ہوگا، پروپیگنڈہ ختم ہوگا، دونوں طرف کی کہانی چھپے گی، دونوں طرف کا موقف آئے گا، حقائق سامنے آئیں گے، اس سے نفرت کی فضا ختم ہوگی، اس سے انتہا پسندی ختم ہوگی، اس سے جمہوریت مضبوط ہوگی، عوام کے شعور میں اضافہ ہوگا، اور اس سے میڈیا والوں کا فائدہ ہوگا، ان کے پیشہ وارانہ کی ترقی ہوگی، ہماری پیشہ وارانہ ترقی ہوگی یہ سب فائدے ہیں‘۔

اس سے پہلے جنوبی ایشیاء کےصحافیوں کی تنظیم سیفما کے سیکریڑی جنرل امیتاز عالم نے تنظیم کے دو اور پاکستانی عہدیداروں کے ہمراہ مشترکہ نیوز کانفرنس میں ایک بیان پڑھا اور اس میں بھی ہندوستان اور پاکستان کی حکومتوں سے یہی مطالبہ کیا گیا تھا کہ دونوں ممالک کے صحافیوں کے لیے ویزہ کے طریقہء کار میں نرمی کی جائے۔

اس بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ صحافتی براداری، دانشور، رائٹرز، فن کار، وکلاء، تاجر، سیاست دان اور اراکین پارلیمان ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے اطلاعات تک رسائی، معلومات کے آزادانہ تبادلے اور جنوبی ایشیائی ملکوں کی تنظیم سارک کے رکن ممالک کے لوگوں اور صحافیوں کی آزادانہ نقل و حرکت کا مطالبہ کرتے آرہے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ جنوبی ایشیاء کے صحافیوں کی تنظیم سیفما کے زیر اہتمام رکن ممالک کے صحافیوں کے رہنماؤں کی پانچ مختلف کانفرنسوں میں ہندوستان اور پاکستان کے وزراء خارجہ سمیت تمام سارک ممالک کے وزراء خارجہ نے سیفما کے مندوبین کو ویزہ کے طریقہء کار میں نرمی اور رکن ممالک میں سفر کے لیے صحافیوں کو ویزہ سٹیکر جاری کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ سارک ملکوں کے وزراء کی کونسل نے رکن ممالک کے صحافیوں کو سارک ویزہ سٹیکر جاری کرنے کا دو مرتبہ فیصلہ کیا لیکن ہندوستان اور پاکستان کی حکومتوں نے اس فیصلے پر ابھی تک عمل درآمد نہیں کیا ہے۔

اس بیان پر جنوبی ایشاء کے صحافیوں کی تنظیم سیفما کے سیکریڑی جنرل امتیاز عالم اور پاکستان کے اخبارات کے مالکان اور نیوز ایڈیٹرز کی تنظیموں کے صدور کے علاوہ کوئی اسی نامور صحافیوں اور کالم نگاروں نے دستخط کیے ہیں۔ان میں انگریزی اخبار ایکسپرس ٹریبیون کے ایگزیکٹیو ایڈیٹر ضیاءالدین، پاکستان ٹوڈے کے ایڈیٹر عارف نظامی کے علاوہ پانچ خواتین صحافیوں جن میں انگریزی ماہنامہ نیوز آن لائن کی ایڈیٹر ریحانہ حکیم بھی شامل ہیں۔

سیفما کے سیکریڑی جنرل امیتاز عالم نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ماحول قدرے بہتر ہوا ہے اور انہیں امید ہے کہ ان کا مطالبہ تسلیم کیا جائے گا۔

اسی بارے میں