خیبر ایجنسی:جھڑپوں میں چھ افراد ہلاک

خیبر ایجنسی تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption لشکر اسلام اور انصارالاسلام کے جنگجوؤں کے درمیان گزشتہ کئی سالوں سے جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں کالعدم شدت پسند تنظیموں انصارالاسلام اور لشکر اسلام کے درمیان جھڑپوں میں چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

خیبر ایجنسی میں ہی تحریک طالبان پاکستان کے پانچ ٹھکانوں کوگن شپ ہیلی کاپٹروں سے نشانہ بنایا گیا ہےاور شلوبر کے علاقے سے لوگوں کی نقل مکانی جاری ہے۔

سکیورٹی فورسز کے ایک اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاورخان وزیر کو بتایا کہ بدھ کی صبح خیبر ایجنسی کے دور افتادہ پہاڑی علاقے وادی تیرہ میں توری خیل کے مقام پر انصارالاسلام اور لشکر اسلام کے جنگجوؤں کے درمیان تازہ جھڑپیں ہوئیں۔

اہلکار کے مطابق دونوں طرف سے چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں اور ہلاک ہونے والوں میں چار لشکر اسلام کے اور دو انصارالاسلام کے جنگجو بتائے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فریقین نے ایک دوسرے کے مورچوں پر بھاری ہتھیاروں سے حملے کیےاور انصارالاسلام کے جنگجوؤں نے لشکر اسلام سے دو مورچے اپنے قبصے میں لے لیے ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہناہے کہ یہ دونوں مورچے بُہت اہم تھے اور گزشتہ تین سالوں سے لشکر اسلام کے پاس تھے۔

اہلکار کے کہنا تھا کہ بدھ کی صُبح آٹھ بجے تیرہ کے ایک دوسرے علاقے دواتوئی کے علاقے میں سکیورٹی فورسز نے تحریک طالبان پاکستان کے پانچ ٹھکانوں کو گن شپ ہیلی کاپٹروں سے نشانہ بنایا ہے، جس کے نتیجے میں تمام ٹھکانوں کو کافی نقصان پہنچا ہے البتہ ابھی تک ہلاکتوں کی اطلاعات نہیں ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ باڑہ کے علاقے شلوبر میں لوگوں کو علاقہ خالی کرنے کا بتایاگیا ہے جس کے بعد سے لوگوں نے علاقے سے نقل مکانی شروع کی ہے لیکن ابھی تک واضح نہیں ہے کہ علاقے میں کتنے لوگ رہ گئے ہیں۔ اہلکار کے مطابق جونہی عام شہری علاقے سے نکل جائیں گے وہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائی شروع کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ شلوبر کے علاقے میں تمام تنظیموں کے جنگجو موجود ہیں لیکن اس میں زیادہ تر لشکر اسلام کے جنجگوؤں کے موجودگی کی اطلاعات ہے۔ اہلکار کے مطابق عام شہریوں کے ساتھ شدت پسندوں کے علاقے سے نکل جانے پر ان کی نظر ہے۔

خیال رہے کہ خیبر ایجنسی میں لشکر اسلام اور انصارالاسلام کے جنگجوؤں کے درمیان گزشتہ کئی سالوں سے جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے جس میں اب تک دونوں جانب سے بڑی تعداد میں لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں