اجمل خٹک کے مزار پر حملہ، ایک ہلاک

پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا کے ضلع نوشہرہ میں نامعلوم مسلح افراد نے حکمران جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے سابق صدر، بزرگ سیاستدان اور پشتو کے مشہور انقلابی شاعر مرحوم اجمل خٹک کے مزار کو دو بم دھماکوں میں نشانہ بنایا ہے۔

حملے میں پولیس اہلکار اور ایک صحافی سمیت پانچ افراد زخمی ہوگئے جبکہ مزار کی عمارت بھی تباہ ہوگئی ہے۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ بدھ کی رات تقریباً دس بجے کے قریب نوشہرہ شہر سے چند کلومیٹر دور جی ٹی روڈ پر اکوڑہ خٹک کے مقام پر پیش آیا۔

نوشہرہ پولیس کے ترجمان ترک علی شاہ نے بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد نے اجمل خٹک کے مزار کو دو دھماکوں میں نشانہ بنایا جس سے مزار کا گنبد مکمل طورپر تباہ ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں دھماکے وقفے وقفے سے ریموٹ کنٹرول سے کئے گئے۔

ان کے مطابق دوسرے دھماکے کے وقت وہاں لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہوگئی تھی جس کی وجہ سے پولیس اہلکار اور صحافی سمیت پانچ افراد زخمی ہوئے۔ پولیس نے ملزمان کی تلاش کےلئے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔

ادھر جائے وقوعہ کا دورہ کرنے والے نوشہرہ کے مقامی صحافی سہیل کاکاخیل نے عینی شاہدین کے حوالے سے کہا ہے کہ پانچ مسلح افراد مزار میں داخل ہوئے اور چوکیدار کو رسیوں سے باندھ کر وہاں دھماکہ خیز مواد نصب کردیا۔

انہوں نے کہا کہ اجمل خٹک کے مزار کو حال ہی میں صوبائی حکومت نے ایک کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کرایا تھا جبکہ ابھی عمارت کی تزئین و آرائش جاری تھی۔ اس واقعے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہوسکی اور نہ ہی کسی تنظیم نے اس کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

ادھر حکمران جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں اورصوبائی وزراء نے اجمل خٹک کے مزار پر حملے کی سخت الفاظ میں مزمت کی ہے۔

اجمل خٹک تقریباً دو سال پہلے پچاسی سال کے عمر میں انتقال کرگئے تھے۔

خیال رہے کہ اجمل خٹک کا مزار اکوڑہ خٹک میں مرکزی جی ٹی روڈ سے چند فرلانگ کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس عمارت کے بالکل سامنے کچھ فاصلے پر خیبر پختونخوا کا سب سے بڑا دینی مدرسہ دارالعلوم حقانیہ بھی قائم ہے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ چند دن پہلے دارالعلوم حقانیہ کے مدرس مولانا شیخ نصیب خان کو نامعلوم افراد نے اغواء کر لیا تھا اور بعد میں اس کی لاش ملی تھی۔ خیبر پختون خوا کی مذہبی جماعتوں نے مولانا نصیب خان کی پراسرار ہلاکت کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے اس کی قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم اس کی ہلاکت کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی تھی۔

اسی بارے میں