لاہور: وکلاء کا پولیس اہلکار پر تشدد

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں جمعرات کو وکلاء نے ایک بار پھر پولیس اہلکار کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ یہ دو دن میں وکلاء کے پولیس اہلکاروں پر تشدد کا دوسرا واقعہ ہے۔

پولیس اہلکار پر مبینہ طور تشدد کا واقعہ لاہور کی سیشن عدالت میں اس وقت پیش آیا جب لاہور کا ایک سب انسپکٹر امتیاز واہلہ ایک مقدمہ میں عدالت پیش ہوا اور عدالت کے روبرو اس نے چوری کے مقدمہ کے ایک ملزم کو بےگناہ قرار دیا۔

لاہور سے بی بی سی کے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق سب انسپکٹر امتیاز واہلہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کاکہا کہ ’وکیلوں نے مجھے جج کے سامنے مارا‘۔ انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ وہ جس مقدمے کی پیروی کے لیے عدالت آئے تھے اس مقدمے میں مدعی کے وکلاء نے ان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ چوری کے ملزم کو قصوروار قرار دے دی لیکن انہوں نے عدالت کے سامنے ملزم کی بے گناہی کر رپورٹ پیش کی تھی۔

مضروب تھانیدا کے بقول اس بات پر مدعی کے وکیل اور اس کے دو درجن سے زائد ساتھیوں نے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا اور سر پر پستول کے بٹ بھی مارے۔

تھانہ اسلام پورہ کے اہلکار محمد فاروق نے بتایا کہ سب انسپکٹر کو تشدد کا نشانہ بنانے کے خلاف لاہور کے علاقے اسلام پورہ کے تھانے میں پولیس اہلکار پر تشدد کے ملزم تین وکیلوں قمر شاہد میو، ملک ساجد اعوان اور محمد الفت کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

اس مقدمہ میں دو درجن سے زائد نامعلوم افراد کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

ماضی میں بھی وکلاء کی طرف سے تشدد کے متعدد واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ بدھ کو بھی وکلاء نے ایک اے ایس آئی زہیب کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔

اے ایس آئی زہیب کا کہنا تھا کہ وہ یہ بات سمجھنے سے قاصر ہے کہ اس کو کس بنیاد پر وکلاء نے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس واقعہ کا مقدمہ بھی بیس سے زائد افراد کے خلاف درج کیا جا چکا ہے لیکن کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

گذشتہ ہفتے صوبہ پنجاب کے شہر فیصل آباد میں ایک وکیل نے جج کو صرف اس لیے جوتا مارا تھا کہ جج نے مقدمے کا فیصلہ ان کی مرضی کے مطابق نہیں کیا تھا۔

اس واقعہ کے بعد سے پچھلے چھ روز سے فیصل آباد میں ماتحت عدالتوں کے ججوں نے احتجاجا کام چھوڑ رکھا ہے۔

مبصرین کا کہناہے کہ وکلا کی طرف سے تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کی بڑی وجہ ان کی خلاف کسی بھی مقدمے میں کسی قسم کی کاروائی نہ ہونا بھی ہے۔

اسی بارے میں