صوبائی اختیارات کے تعین کے لیے کمیٹی

پاکستان کی پارلیمان تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یہ کمیٹی تین ماہ میں ایوان کو اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

پاکستانی پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی ہے جس کے تحت اٹھارویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو منتقل کردہ محکموں، اداروں اور اختیارات کے عملدرآمد کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔

میاں رضا ربانی کی پیش کردہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین سینیٹ قائد ایوان اور اپوزیشن لیڈر کی مشاورت سے یہ کمیٹی بنائیں گے جو تین ماہ میں ایوان کو اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو روز سے آئین کے مطابق صوبوں کو اختیارات منتقل نہ کرنے کے معاملے پر اپوزیشن اور حکومت کی اتحادی جماعتوں عوامی نیشنل پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے علاوہ خو حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے میاں رضا رضا ربانی اور دیگر نے سخت احتجاج کیا جس کے نتیجے میں یہ کمیٹی قائم کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔

جمعرات کو وقفہ سوالات شروع ہوئے تو پہلا سوال ہی وزارت صحت کے تحت چلنے والے چار اہم پروگرام ملیریا، ٹی بی، ایڈز اور پولیو کو صوبوں کے حوالے کرنے کے بجائے وفاقی حکومت کے تحت چلانے کے بارے میں تھا۔

جواب تو بین الصوبائی رابطوں کے وفاقی وزیر میر ہزار خان بجارانی کو دینا تھا لیکن ضمنی سوالات کا جوابات وزیر قانون فاروق نائک نے دیے۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں کی رضا مندی اور ان کی تحریری اجازت کی بنا پر یہ پروگرام وفاق چلا رہا ہے۔

ان کے مطابق آئین کی شق ایک سو چہتر کے مطابق صوبوں کی رضا مندی سے وفاق ایسا کر سکتا ہے لیکن اس کے لیے ساٹھ روز کے اندر متعلقہ صوبائی اسمبلیوں سے اس کی منظوری لازم ہے۔

جس پر مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور اپوزیشن لیڈر اسحاق ڈار نے کہا کہ پنجاب نے وفاق کو کوئی اجازت نہیں دی ہے اور اگر وفاق کے پاس کوئی تحریری ثبوت ہے تو پیش کریں۔ انہوں نے کہا حکومت غیر آئینی طریقے سے معاملات چلا رہی ہے۔

جس پر وزیر قانون نے پلٹہ کھایا اور کہا کہ اس بارے میں متعلقہ وزیر ہی بہتر بتا سکتے ہیں۔ لیکن انہوں نے اسحٰق ڈار کو طعنہ دیا کہ لگتا ہے کہ وہ ابھی تک ان سے ناراض ہیں۔ کیونکہ بطور چیئرمین سینیٹ فاروق نائک نے اسحٰق ڈار کے بجائے مولانا غفور حیدری کو اپوزیشن لیڈر نامزد کیا تھا۔

دریں اثناء مسلم لیگ (ن) نے جمعرات کو بھی وزیراعظم کو توہین عدالت کیس میں ملنے والی سزا کے بعد انہیں نا اہل قراردینے کے بارے میں اپنا احتجاج جاری رکھا۔ سید ظفر علی شاہ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے تفصیلی حکم کی کاپیاں صدر، سپیکر اور چیئرمین سینیٹ سمیت متعلقہ حکام کو بھیج دی ہیں اور اس کا مطلب ہے کہ وہ اس پر عمل کرائیں۔

وفاقی وزیر قانون فاروق نائک نے کہا کہ عدالتی حکم میں وزیراعظم کو نا اہل قرار نہیں دیا گیا اور اس بات کا فیصلہ سپیکر قومی اسمبلی نے کرنا ہے۔

ان کے مطابق یوسف رضا گیلانی اس وقت آئینی اور قانونی طور پر وزیراعظم ہیں اور وہ اپیل کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپوزیشن کو مشورہ دیا کہ وہ اپیل کے حتمی فیصلے تک انتظار کریں۔ جس پر مسلم لیگ (ن) کے سینیٹرز نے احتجاج کرتے ہوئے بقایا کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔

اسی بارے میں