’امدادی کارروائیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں‘

Image caption ’پناہ گزینوں کے کیمپ، خوراک، تعلیم اور طبی سہولیات جیسی ضروریات معطل کرنا پڑ سکتی ہیں‘

اقوامِ متحدہ کے امدادی ادارے اوچا کا کہنا ہے کہ امدادی تنظمیوں کو پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ اور قبائلی علاقوں سے آنے والے بے گھر افراد کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے رواں برس اٹھارہ کروڑ ڈالر کی رقم درکار ہے۔

اوچا نے خبردار کیا ہے پاکستان کے قبائلی علاقوں کے بےگھر افراد کی امداد کے لیے فنڈز رواں ماہ کے آخر تک ختم ہو جائیں گے جس کی وجہ سے امدادی کارروائیاں خطرہ میں پڑ سکتی ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں شدت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن کی وجہ سے تقریباً دو لاکھ افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔

اوچا کے مطابق امدادی فنڈز رواں ماہ مئی کے آخر میں ختم ہو رہے ہیں اور اگر مزید فنڈز کی فراہمی ممکن نہیں ہوئی تو پناہ گزینوں کے کیمپ، خوراک، تعلیم اور طبی سہولیات جیسی ضروریات معطل کرنا پڑ سکتی ہیں۔

ادارے نے کہا ہے کہ امدادی تنظیموں کو اپنے گھر واپس لوٹنے والے خاندانوں کی زندگی کو معمول پر لانے کے لیے ان کی مدد کی غرض سے اضافی بائیس کروڑ ڈالر کی رقم کی بھی ضرورت ہے۔

ادارے کے مطابق پاکستان کے صوبہ سندھ اور بلوچستان میں گزشتہ برس آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد متاثرہ علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے لیے امدادی تنظیموں کو مزید رقم درکار ہے۔

اوچا کا یہ بھی کہا ہے کہ رواں سال فروری میں شروع کیے گئے بحالی کے پروگرام کے تحت ادارے کو صرف گیارہ اعشاریہ تین ملین ڈالرز موصول ہوئے جبکہ اہداف پورے کرنے کے لیے چار سو چالیس ملین ڈالر سے زائد کی مزید امدادی رقم درکار ہے۔

اس پروگرام کے تحت سیلاب سے متاثرہ پانچ اعشاریہ دو ملین افراد کے ذریعۂ معاش اور رہائش کا بندوبست درکار تھا تاہم وہ بھی پیسوں کی کمی کی وجہ سے شدید متاثر ہوا ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں کشیدگی برقرار ہے اور تحصیل باڑہ سے لگ بھگ ساڑھے تین ماہ میں ڈھائی لاکھ افراد نقل مکانی کر کے پشاور اور نوشہرہ کے قریب جلوزئی کیمپ میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں۔

پولیٹکل انتظامیہ نے چند روز پہلے یہ اعلان کیا تھا کہ تحصیل باڑہ میں شلوبر قوم اپنے علاقے مکمل طور پر خالی کر دیں کیونکہ اس کے بعد اس علاقے میں فوجی آپریشن شروع کر دیا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان چند روز میں اگرچہ دو سو خاندان نقل مکانی کرکے جلوزئی کیمپ پہنچے ہیں لیکن یہ سب پہلے سے رجسٹرڈ تھے۔

قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے میں آئی ڈی پیز کے انچاج فیض محمد فیضی نے بی بی سی کو بتایا کہ تحصیل باڑہ سے نقل مکانی کا سلسلہ بیس جنوری سے جاری ہے اور سب سے پہلے شلوبر کا علاقہ خالی کرایا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر شلوبر قوم کے تقریبًا دس ہزار خاندان رجسٹرڈ ہوئے تھے لیکن املاک کی حفاظت کے لیے ہر گھر میں کچھ لوگ وہیں رہ گئے تھے جس کی وجہ سے حالیہ اعلان کیا گیا ہے کہ تاکہ باقی رہ جانے والے لوگ بھی یہ علاقہ مکمل طور پر خالی کر دیں۔

انہوں نے کہا کہ ساڑھے تین ماہ میں پچاس ہزار خاندان جن کی تعداد انفرادی طور پر ڈھائی لاکھ بنتی ہے جلوزئی کیمپ میں رجسٹرڈ ہوئے ہیں لیکن ان میں سے چھ ہزار خاندان کیمپ میں رہ رہے ہیں جبکہ چار ہزار خاندان پہلے سے مختلف علاقوں سے نقل مکان کرکے کیمپ پہنچے تھے۔

اسی بارے میں