’بجلی کی لوڈشیڈنگ پر سیاست ہو رہی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان بھر میں لوڈشیڈنگ کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں

پاکستان کے پانی و بجلی کے وفاقی وزیر سید نوید قمر کا کہنا ہے کہ ملک کا ایک صوبہ توانائی کانفرنس کی سفارشات پر عمل نہیں کر رہا اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کے معاملے پر سیاست کر رہا ہے۔

جمعہ کو سینیٹ میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے بارے میں اٹھائے گئے نکتہ اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ توانائی کانفرنس نے بجلی کی بچت کے لیے رات آٹھ بجے بعد بازار بند کرنے کی سفارش کی اور اس پر عمل کرتے ہوئے پنجاب کے علاوہ تینوں صوبوں نے نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔

انہوں نے نام لیے بناء پنجاب حکومت پر الزام لگایا کہ وہ توانائی کانفرنس پر عمل کرنے کے بجائے لوڈشیڈنگ کے خلاف تحریک چلا رہی ہے اور اس طرح کے اقدامات سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق وفاقی وزیر نے تو ملک بھر میں غیر اعلانیہ لو شیڈنگ نہ ہونے کا دعویٰ بھی کیا لیکن کئی شہروں میں اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی پالیسی پر عمل نہیں ہوتا۔

سید نوید قمر نے بتایا کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں تین بجلی کے منصوبے مکمل ہوئے ہیں اور دریائے چناب پر قائم کردہ بجلی گھر نے تجرباتی طور پر کام شروع کیا ہے اور بہت جلد ان منصوبوں سے اضافی بجلی ملے گی۔

ان کے بقول بجلی کی لوڈشیڈنگ جمعہ سے کم ہو جائے گی کیونکہ دو ہزار میگا واٹ بجلی سسٹم میں آئے گی۔

انہوں نے بتایا کہ کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کوئلے پر چلنے والا بجلی گھر لگا رہی ہے اور آئندہ سال تک وہ کام شروع کرے گا۔

قبل ازیں میاں رضا ربانی، شاہی سید، کامل علی آغا، الیاس بلور اور سعید غنی نے کہا کہ کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن (کے ای ایس سی) جب سے نجی شعبہ کے حوالے کی گئی ہے اس وقت سے مسائل بڑھ گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پاکستان کو اس وقت ہزاروں میگا واٹ بجلی کی کمی کا سامنا ہے

انہوں نے کہا کہ جہاں ساڑھے چار ہزار ملازمین کو نکالا گیا ہے وہاں اس ادارے کی انتظامیہ بحران پیدا کرکے لوگوں کو مشتعل کرتی ہے اور حکومت سے بلیک میلنگ کے ذریعے پیسے لیتی ہے۔ ان کے بقول فرنس آئل مہنگا ہونے کی وجہ سے وہ اپنے یونٹ نہیں چلاتے۔

وزیر مملکت برائے پانی و بجلی تسنیم قریشی نے بتایا کہ ’کے ای ایس سی‘ بائیس سو میگاواٹ بجلی بنا سکتا ہے لیکن وہ صرف ایک ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں اور باقی واپڈا سے لیتے ہیں۔ ان کے بقول فرنس آئل پر پیدا ہونے والی بجلی تیس روپے فی یونٹ پڑتی ہے۔

کئی اراکین نے مطالبہ کیا کہ ’کے ای ایس سی‘ کو قومی تحویل میں لیا جائے اور اس کے لیے ایوان کی کمیٹی بنائی جائے۔ وفاقی وزیر سید نوید قمر نے کمیٹی بنانے کی تجویز سے تو اتفاق کیا لیکن کمیٹی بنانے کا اعلان نہیں ہوا۔

وزیر نے کہا کہ ’کے ای ایس سی‘ پر براہ راست حکومت کا کنٹرول نہیں اور اس میں کئی قانونی پیچیدگیاں ہیں اور بجلی کے معاملات کو ریگولیٹ کرنے والے ادارے ‘نیپرا’ سے بات چل رہی ہے اور قانونی رکاوٹیں دور کرکے حکومت کارروائی کرنا چاہتی ہے۔

مسلم لیگ (ق) کے کامل علی آغا نے کہا کہ پنجاب میں لوڈشیڈنگ سے زندگی اجیرن ہوگئی ہے لیکن وفاقی حکومت کا رویہ شرمناک ہے۔

اسی بارے میں