’پاکستان تعاون کرے، ورنہ ’خود‘ ہی کارروائی کریں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکی سینیٹر جان کیری کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اپنی سرزمین پر مبینہ طور پر موجود دہشتگردوں کی پناہ گاہوں کے خاتمے کے لیے امریکہ سے مزید تعاون کرنا چاہیے ورنہ امریکہ کو’اپنی مدد آپ ‘ کے تحت اقدامات کرنے پڑیں گے۔

پاکستان کے حامی تصور کیے جانے والے سینیٹر جان کیری نے افغانستان کے مستقبل کے بارے میں شکاگو میں نیٹو کی کانفرنس سے قبل سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے اجلاس میں کہا کہ پاکستان کو اپنی سرزمین پر دہشتگروں کی محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کرنے کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔’پاکستان کو واضح اور مثبت تعاون کرنا چاہیے ورنہ ہمیں اپنی مدد آپ کے تحت اقدامات کرنے پڑیں گے۔‘

امریکہ ماضی میں پاکستان پر حقانی نیٹ ورک نامی دہشتگرد گروہ کی حمایت اور اس کی قیادت کے لیے شمالی وزیرِستان میں محفوظ پناہ گاہیں مہیا کرنے کا الزام عائد کرتا رہا ہے۔

ادھر نیٹو کے سربراہ آندرے راسموسن نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ آئندہ نیٹو اجلاس تک نیٹو سپلائی کھول دے۔

ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نیٹو نیٹو کے سیکرٹری جنرل آندرے راسموسن نے پاکستان کو اجلاس میں نہ بلانے کا کوئی واضح اشارہ نہیں دیا۔ پاکستان نے گزشتہ نومبر میں ایک نیٹو حملے اپنے چوبیس فوجیوں کی ہلاکت کے بعد اپنی سرزمین سے افغانستان میں نیٹو افواج کے لیے سپلائی لائن روک دی تھی۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ نیٹو رسد فراہم کرنے والے دوسرے ممالک کو اس اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ اس اجلاس میں سنہ دو ہزار چودہ کے آخر تک افغانستان سے نیٹو فوجوں کی واپسی کے بعد اس ملک کے مستقبل کی منصوبہ بندی کی جائے گی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا:’ہم نے افغانستان کے متعدد ہمسایہ ممالک جیسے روس اور دیگر وسطیٰ ایشیاء کے ممالک کو اجلاس میں شرکت کی دعوت دی ہے کیونکہ کہ وہ نیٹو فوجوں کی رسد میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’جیسا کے آپ کو معلوم ہے، اس وقت ہمارے پاکستان کی ذریعے جانے والے راستے بند ہیں چنانچہ ہمیں پاکستان کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے ہوں گے کیونکہ اس مسئلے کا حل تلاش کرنا ہمارے لیے انتہائی اہم ہے۔‘

پاکستان نے نیٹو سپلائی دوبارہ کھولنے کے لیے امریکہ سے سلسلہ چیک پوسٹ پر حملے کی سرکاری معافی اور قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں کو روکنے کی شرائط رکھی ہیں۔

پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے لندن میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ پاکستان کو افغانستان کے مستقبل سے متعلق منعقد کی جانے والی نیٹو کانفرنس میں شرکت کی دعوت موصول نہیں ہوئی ہے۔ اور کانفرنس میں شرکت کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ دعوت نامہ موصول ہونے کے بعد کیا جائے گا۔

وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ملکی پارلیمان سے منظور شدہ قراردادوں کی روشنی میں امریکہ سے مذاکرات کر رہا ہے۔ اور امریکہ سے تعلقات کا فیصلہ بھی انہی قراردادوں کی روشنی میں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں