گھوٹکی میں پیپلز پارٹی کا جلسہ اور دھرنا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی سنیچر کو صوبہ سندھ اور صوبہ پنجاب کو ملانے والی سرحد پر دھرنا اور جلسہ کر رہی ہے۔

یہ جلسہ اور دھرنا بظاہر پنجاب میں حکمران جماعت مسلم لیگ نون کی سپریم کورٹ کی جانب سے توہین عدالت کیس میں وزیراعطم گیلانی کو قصوروار ٹھہرائے جانے اور سزا دینے کے بعد ’گو گیلانی گو‘ مہم کے جواب میں ہے۔

اس جلسے اور دھرنے کا مقصد سیاست دانوں کو پیغام دینا ہے کہ پیپلز پارٹی ابھی بھی سندھ کی واحد سیاسی وقت ہے اور اس کا ووٹ بنک اپنی جگہ مستحکم ہے۔

پیپلز پارٹی نے جہاں ضلع گھوٹکی کے علاقے اوباڑو میں جلسہ کر کے ایک جانب سرائیکی صوبے کے حامیوں کو محبت کا پیغام بھیجا ہے تو دوسری جانب ضلع میں موجود با اثر سیاسست دانوں مہر گروپ کو بھی ان کے علاقے میں قوت کا مظاہرہ کر کے پارٹی میں شمولیت کی دعوت دی ہے۔

مہر گروپ کے پاس اس وقت قومی اسمبلی میں ایک جبکہ سندھ اسمبلی میں دو نشستیں ہیں۔

ضلع گھوٹکی میں مہر گروپ کے بعض اہم اور سرگرم افراد نے پہلے ہی پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔

واضح رہے کہ پیپلز پارٹی نے اگست سنہ انیس سو اٹھانوے میں اسی مقام پر کالا باغ ڈیم کے منصوبے کے خلاف دھرنا دیا تھا۔

اس دھرنے میں پیپلز پارٹی کی سابق چیئر پرسن بے نظیر بھٹو خود شریک ہوئی تھیں۔

پیپلز پارٹی کے مقامی حلقوں کے مطابق سنیچرکے دھرنے میں پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کی شرکت بھی متوقع ہے۔

سندھ سے پیپلز پارٹی کے کارکن اس دھرنے اور جلسے میں شرکت کے لیے آ رہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ پنجاب کے مختلف علاقوں سے بھی پیپلز پارٹی کے کارکن اس جلسے میں شرکت کے لیے آ رہے ہیں۔

سندھ کی سیاست پر سنہ انیس سو ستر سے پیپلز پارٹی کو غلبہ حاصل ہے تاہم اب سندھ کی ساست میں ایک بار پھر نئی صف بندی ہو رہی ہے۔

پیپلز پارٹی نے ناراض کارکنوں کو منانے کا آغاز کر دیا ہے اور اس کی ابتدا ضلع نو شیرو فیروز کے اصغر شاہ اور مراد علی شاہ کی پیپلز پارٹی میں شمولیت ہے۔

اس کے علاوہ بھی پیپلز پارٹی مختلف اضلاع میں بڑے سیاست دانوں کے علاوہ ان چھوٹے زمینداروں سے بھی بات کر رہی ہے جن کا اثر انتخابات میں کرشمہ دکھاتا ہے۔

اسی بارے میں