نیٹو سپلائی: فوجی کمانڈروں کی ملاقاتیں

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption امریکی دفترِ خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ نے حقانی نیٹ ورک پر بھی بات کی۔

افغانستان میں امریکی فوج کے اعلیٰ ترین کمانڈر نے سنیچر کے روز پاکستانی فوج کے سربراہ سے افغانستان میں نیٹو افواج کی سپلائی بحال کرنے اور سرحدی تعاون بڑھانے پر بات چیت کی ہے۔

تقریباً چھ ماہ قبل پاک افغان سرحد پر امریکی فضائی حملے سے چوبیس پاکستانی فوجی ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد پاکستان نے افغانستان میں موجود نیٹو افواج کے لیے زمینی رسد کا راستہ منقطع کر دیا تھا۔

دریں اثناء پاکستان، افغانستان اور ایساف کے فوجی حکام کے درمیان اسلام آباد میں سہہ فریقی کمیشن کا پینتیسواں اجلاس ہوا۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ یعنی آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس بات چیت کا محور پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدوں کو کنٹرول کرنے کے اقدامات اور ناخوشگوار واقعات سے بچنے کے لیے طریقے کار کے بارے میں تھا۔

اس اجلاس میں پاکستان کی فوج کے وفد کی قیادت فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کی، ایساف کے وفد کی قیادت جنرل جان ایلن اور افغانستان کی فوج کے وفد کی قیادت چیف آف جنرل سٹاف شیر محمد کریمی نے کی۔

دوسری جانب امریکہ نے کہا ہے کہ افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کے لیے پاکستان کے راستے سامان رسد کی فراہمی کی بحالی کے لیے امریکی ماہرین کی ٹیم پاکستان میں ہی موجود ہے اور پاکستانی ماہرین کے ساتھ مل کر اس معاملے پر کام جاری رکھے ہوئے ہے۔

امریکی وزارتِ خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ نے یہ بات واشنگٹن میں اخباری بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہی۔

ایک سوال کے جواب میں کہ اگر پاکستان نے اگر پاکستان سپلائی لائن کھولتا ہے تو کیا اس بات کا امکان ہے کہ پاکستان کو نیٹو کانفرنس میں مدعو کیا جائے گا، وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ مارک گروسمین دس دن پہلے پاکستان میں تھے جہاں ان کی پاکستانی حکام سے نیٹو کی سپلائی لائن کھولنے کے معاملے پر مفصل بات چیت ہوئی اور پھر وہ اپنے ساتھ امریکی ماہرین کی ایک ٹیم بھی لے گئے تھے جو پاکستانی ماہرین کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔

وکٹوریہ نولینڈ نے مزید کہا کہ وہ ٹیم اب بھی پاکستان میں ہے اور ان کے خیال میں نیٹو کے سیکریٹری جنرل راسموسن نے کافی کھل ان مسائل پر نیٹو کا مؤقف بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی اجاگر کیا ہے کہ ہم کسی حل کی تلاش میں ہیں۔

پاکستان کی پارلیمان نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکی حکومت گزشتہ سال کے واقعے کے لیے سرکاری معافی مانگے اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے بند کرئے۔ البتہ پاکستانی قانون سازوں نے ان مطالبات کو سامان رسد کی فراہمی کے ساتھ منسلک نہیں کیا تاہم یہ معاملات تمام مذاکرات کو پیچیدہ کر رہے ہیں۔

امریکی حکومت نے پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار تو کیا ہے مگر معافی نہیں مانگی۔ اس کی وجہ امریکہ میں اندرونی سیاسی حالات کو مانا جاتا ہے۔

اسی بارے میں