سہ فریقی اجلاس:سرحد کی سکیورٹی پربات چیت

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے بعد پاکستان نے افغانستان میں فوجوں کے لیے اپنی سرزمین سے سامان رسد کی فراہمی معطل کررکھی ہے۔

پاکستان، افغانستان اور ایساف فوج کے اعلیٰ فوجی حکام کے درمیان اتوار کو روالپنڈی میں ایک سہ فریقی اجلاس ہوا جس میں پاک - افغان سرحد کی سکیورٹی پر بات چیت کی گئی۔

اس اجلاس میں افغانستان میں بین الاقوامی اتحادی فوج ایساف کے سربراہ جنرل جون ایلن، افغان آرمی چیف جنرل شیر محمد کریمی اور پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے شرکت کی۔

گزشتہ سال نومبر میں پاکستان کی سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو کے فضائی حملے کے بعد تینوں ملکوں کے اعلی سطح کے فوجی حکام کے درمیان یہ پہلا باضابطہ اجلاس تھا۔

تینوں ممالک کے اعلیٰ فوجی حکام کے درمیان ان مذاکرات کو پاکستان کے امریکہ اور افغانستان کے ساتھ پچھلے چھ ماہ سے کشیدہ تعلقات میں بہتری کی علامت کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

افغانستان میں بین الاقوامی اتحادی فوجوں کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان کے مطابق اتوار کو ہونے والے سہ فریقی مذاکرات کے بعد جنرل جون ایلن نے کہا کہ مذاکرات سے ان کا ’حوصلہ بڑھا‘ ہے۔

انہوں نے کہا ’مذاکرات سے ناصرف یہ بات سامنی آئی ہے کہ تمام فریقین اہم موضوعات اور مسائل پر تازہ بات چیت کرنے کے خواہش مند ہیں بلکہ ان سے یہ اتفاق رائے بھی پایا گیا کہ اس طرح کہ مذاکرات ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کے لیے ضروری ہیں تاکہ افغانستان آئندہ شدت پسندوں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ نہ رہے۔‘

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے چند سطروں کے اعلامیے میں اسے تینوں ملکوں کے سہ فریقی فوجی کمیشن کی 35 ویں ملاقات کہا ہے۔ اعلامیے کے مطابق پاکستان اور افغانستان کی مشترکہ سرحد کے کنٹرول کے لیے کیے گئے اقدامات اور وہاں ناپسندیدہ واقعات کی روک تھام کے لیے پہلے سے موجود طریقہ کار پر بات چیت ہوئی۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار احمد رضا کا کہنا ہے کہ جنرل جون ایلن نے ایک روز پہلے بھی جنرل اشفاق پرویز کیانی کے ساتھ جی ایچ کیو راولپنڈی میں مذاکرات کیے تھے جن میں اطلاعات کے مطابق پاکستان کے راستے نیٹو کی رسد کے راستوں کی بحالی پر بھی بات ہوئی تھی۔

واضح رہے کہ سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے بعد پاکستان نے افغانستان میں تعینات امریکی اور بین الاقوامی اتحادی فوجوں کے لیے اپنی سرزمین سے سامان رسد کی فراہمی معطل کررکھی ہے اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کے ساتھ گیارہ سالہ تعاون پر نظر ثانی بھی کی ہے۔

پاکستانی پارلیمینٹ نے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات پر نظر ثانی کے بعد جو سفارشات مرتب کی ہیں ان میں امریکہ سے اس حملے پر غیرمشروط معافی مانگنے، پاکستانی سرزمین پر ڈرون حملے بند کرنے کا مطالبہ اور امریکہ کے ساتھ تعاون کے لیے نئی شرائط رکھی ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق پچھلے ایک ہفتے سے امریکی ماہرین کی ایک ٹیم پاکستان میں موجود ہے جو پاکستانی حکام کے ساتھ دو طرفہ تعاون، خاص طور پر نیٹو کی سپلائی لائن کی بحالی کے معاملے پر بات چیت کررہی ہے۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق ان بات چیت میں پاکستان کی وزات خزانہ کے حکام کلیدی کردار ادا کررہے ہیں کیونکہ پاکستان اپنی سرزمین سے نیٹو کے سامان رسد کی بحالی کو نئے ٹیکسز اور فیسوں سے مشروط کرنا چاہتا ہے۔

افغانستان کے مستقبل کے بارے میں بین الاقوامی لائحہ عمل کی تیاری کے لیے نیٹو نے اسی مہینے کے تیسرے ہفتے میں امریکی شہر شکاگو میں ایک کانفرنس بلائی ہے جس میں پاکستان کو شرکت کے لیے اب تک دعوت نہیں دی گئی۔ نیٹو کے سربراہ آنرز فو راسموسین نے ایک دن قبل کہا کہ پاکستان اس کانفرنس کے انعقاد سے پہلے نیٹو کی سپلائی لائن بحال کرے۔

اسی بارے میں