سندھ: روہڑی کنال میں شگاف

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption علاقے کے ایک رہائشی آفتاب میمن کا کہنا ہے کہ پورے علاقے میں افرا تفری پھیلی ہوئی ہے۔

حیدرآباد سے ساٹھ کلو میٹر کے فاصلے پر قومی شاہرہ پر واقع قصبہ نیو سعید آباد کے قریب نہر میں شگاف پڑنے کی وجہ سے درجنوں دیہاتوں کے لوگوں کو دیہات خالی کرنے پڑے۔

علاقے سے بہنے والی روہڑی کنال میں شگاف کی ابتدا پچاس فٹ سے ہوئی تھی جو دیکھتے دیکھتے تین سو فٹ تک پھیل گئی اور اس میں اضافہ ہی ہو رہا تھا۔

علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ پانی کی وجہ سے بھکر جمالی اور نیو سعیدآ باد کے درمیان واقع درجنوں دیہات پانی کی لپیٹ میں آگئے ہیں۔

حیدر آباد میں صحافی علی حسن کا کہنا ہے کہ بھکر جمالی علاقے کا ایک بڑا گاؤں ہے جو پورا زیر آب آگیا ہے اور پانی کے اتنے اچانک آجانے کے باعث لوگ مصیبت میں پھنس گئے ہیں۔

پانی اتنی تیز رفتاری سے چل رہا ہے کہ اس نے گرڈ اسٹیشن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ گرڈ اسٹیشن کے پانی میں ڈوب جانے کی وجہ سے علاقے میں بجلی کی فراہمی بند کر دی گئی ہے۔

علاقے کے ایک رہائشی آفتاب میمن کا کہنا ہے کہ پورے علاقے میں افرا تفری پھیلی ہوئی ہے۔ لوگ اپنے اثاثے بچانے میں مصروف ہیں اور علاقے سے نکل جانا چاہتے ہیں لیکن مسافر گاڑیاں موجود نہیں ہیں۔ اور جو موجود ہیں وہ اپنی مرضی کا کرایہ مانگ رہے ہیں۔

علاقے میں موجود ایک صحافی نے بتایا ہے کہ پانی تیزی سے قومی شاہراہ کی طرف بڑھ رہا ہے اور خدشہ ہے کہ پانی نیو سعیدآباد ٹاوئن میں داخل ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ نیو سعیدآباد ریا سندھ کے بائیں کنارے پر واقع نیو سعید آباد ضلع مٹیاری کی ایک بڑی تحصیل ہے جس کی آبادی ساٹھ ہزار سے زائد نفوس پر مشتمل ہے۔

وفاقی وزیر تجارت مخدوم آمین فہیم قومی اسمبلی میں اسی علاقے کی نمائندگی کرتے ہیں۔

صحافی کا کہنا ہے کہ محکمہ آبپاشی کے افسران موقع پر پہنچ چکے تھے اور شگاف پر بند کرنے کی کارروائی جاری ہے۔