’پاکستان آسانیاں پیدا کرنے والا ملک بننا چاہتا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ہم نے دس سال تک نیٹو کی رسد کا کوئی معاوضہ نہیں لیا:حنا ربانی کھر

امریکی محکمۂ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے راستے نیٹو کی سپلائی لائن کی بحالی کے لیے بات چیت میں کافی پیش رفت ہوئی ہے لیکن فریقین اب بھی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچے ہیں۔

ادھر پاکستان کی وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان اور وہاں موجود کثیر الاقومی فوج کے لیے مشکلات کھڑی کرنے والا نہیں بلکہ آسانیاں پیدا کرنے والا ملک بننا چاہتا ہے اور اس کی خواہش ہے کہ اس کے اِس کردار کی قدر کی جائے۔

پیر کی شام واشنگٹن میں پریس بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں امریکی محکمۂ خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ نے کہا کہ امریکہ، زمینی راستوں کی بحالی کے لیے سخت محنت کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری ٹیم اب بھی پاکستان میں ہی موجود ہے اور زمینی راستوں کے معاملے پر کام کر رہی ہے۔ آج صبح میری دانست کے مطابق اس معاملے پر انہوں نے خاصی پیش رفت کی ہے لیکن وہ اب بھی اس پر کام کررہے ہیں اور اب تک وہ پاکستانیوں کے ساتھ کسی حتمی فیصلے پر نہیں پہنچے ہیں‘۔

نیٹو کی طرف سے پاکستان کو شکاگو کانفرنس میں شرکت کی دعوت کے بارے میں سوال پر ترجمان کا کہنا تھا کہ ’شکاگو کانفرنس کے دعوت نامے کے بارے میں جو بات میں نے جمعہ کو کہی تھی اس کے سوا میرے پاس کوئی نئی اطلاع نہیں ہے۔ آپ نے سنا تھا کہ نیٹو کے سیکرٹری راسموسین نے اس بارے میں کیا کہا تھا، اس کے علاوہ میرے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہے‘۔

اس سے قبل پیر کو اسلام آباد میں وفاقی وزیرِ اطلاعات قمر زمان کائرہ کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں پاکستانی وزیرِ خارجہ نے افغانستان موجود نیٹو افواج کے لیے پاکستان کے راستے جانے والی رسد کی بحالی کے بارے میں ایک سوال پر کہا تھا کہ رسد کی بحالی کےلیے امریکہ سے مذاکرات جاری ہیں۔

نامہ نگار حفیظ چاچڑ کے مطابق دفترِ خارجہ میں ہونے والی اس پریس کانفرنس کا ایجنڈا تو وزیراعظم کے حالیہ برطانیہ کے سرکاری دورے سے میڈیا کو آگاہ کرنا تھا لیکن پریس کانفرنس میں پاک امریکہ تعلقات اور نیٹو رسد کا معاملہ موضوعِ بحث رہا۔

وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ’ہم نے دس سال تک نیٹو کی رسد کا کوئی معاوضہ نہیں لیا جبکہ اس کا ہمارے انفراسٹرکچر اور امن و امان کی صورتحال پر برا اثر پڑا۔ ہم نے یہ سب اس لیے کیا کیونکہ ہم افغانستان اور وہاں موجود بیالیس ممالک کے لیے مشکلات پیدا کرنے والا ملک نہیں بلکہ آسانیاں پیدا کرنے والے ملک کا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں‘۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’پاکستان اپنا یہ کردار ادا کرتا رہے گا اور مستقبل میں ہماری خواہش ہے کہ ہمارے اس کردار کو نہ صرف پہچانا جائے بلکہ اس کی قدر بھی کی جائے‘۔

حنا ربانی کھر نے کہا کہ نیٹو سپلائی کی بندش کی وجہ امریکی حملے میں پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت پر ردعمل تھا۔ ’ہم نے غیر منصفانہ حملے پر اپنا ردِ عمل ظاہر کیا۔ اب ہم امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مثبت انداز میں بہتر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ نیٹو حملے کے بعد پاکستان نے امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کی نظرثانی کی اور اس معاملے کو پارلیمنٹ میں لے جایا گیا اور اب پارلیمنٹ نے سفارشات مرتب کی ہیں۔ ان کے مطابق ان سفارشات کی روشنی میں یہ معاملہ زیر بحث ہے اور سفارشات میں واضح طور کہا گیا ہے کہ پاکستان کو تعاون کرنے کی پالیسی جاری رکھنی چاہیے۔

نیٹو ہیلی کاپٹروں کی طرف سے پاکستان کی فوجی چوکی پر کیے گئے حملے پر امریکہ کی معافی سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ’جہاں تک معافی کا سوال ہے تو یہ پارلیمنٹ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ امریکہ کی طرف سے معافی آنی چاہیے اور ہم نے امریکہ کو ہر سطح پر آگاہ کر دیا ہے۔ ہم نے واضح الفاظ میں امریکہ سے کہا ہے کہ اس معاملے پر معافی مانگے‘۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان افغانستان میں امن اور استحکام کےلیے اپنا بھرپور کردار ادا کرتا رہے گا کیونکہ اس میں پاکستان کا ہی مفاد ہے۔ وفاقی وزیرِ اطلاعات قمر زمان کائرہ نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کا فیصلہ اب پارلیمنٹ ہی کرے گی۔

یاد رہے کہ اس پریس کانفرنس سے پہلے ایوان صدر میں صدر آصف علی زرداری کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جسں میں وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی، فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور وزیرِخارجہ حنا ربانی کھر سمیت دیگر وزراء نے شرکت کی تھی۔

اس اجلاس میں خطے کی مجموعی صورتحال، پاک امریکہ تعلقات اور نیٹو سپلائی پر خیالات کا اظہار کیا گیا۔

اسی بارے میں