پھانسی پر عائد غیر رسمی پابندی ختم نہ کریں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان میں گزشتہ چار برس سے کوئی پھانسی نہیں دی گئی

پاکستان کے انسانی حقوق کمیشن نے کراچی میں سزائے موت کے ایک مجرم کو تیئیس مئی کو پھانسی دینے کے فیصلے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکومت سے کہا ہے کہ وہ نہ صرف اس پھانسی پر عملدرآمد روکے بلکہ سزائے موت پر باضابطہ طور پر پابندی عائد کرے۔

ایچ آر سی پی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسے ان اطلاعات پر انتہائی تشویش ہے کہ کراچی جیل میں سزائے موت کے قیدی بہرام خان کو تیئیس مئی کو پھانسی دینے کا حکم دیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں سزائے موت کے کسی ملزم کو آخری بار سنہ 2008ء میں پھانسی دی گئی تھی جس کے بعد سے ملک میں پھانسی پر غیر رسمی پابندی عائد ہے۔

ایچ آر سی پی کا کہنا ہے کہ ملک میں پھانسی کی سزا پر عملدرآمد میں چار سالوں سے جاری غیر اعلانیہ تعطل خوش آئند ہے لیکن اس نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 2008ء میں کیے گئے اپنے وعدے کی پاسداری کرتے ہوئے تمام موت کی سزاؤں کو عمر قید میں تبدیل کردے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ قانون میں موجود خامیوں، انصاف کے نظام اور تحقیقاتی ضابطوں میں پائے جانے والے نقائص اور بدعنوان جیسی جن وجوہات کی بناء پر حکومت نے پچھلے چار برسوں سے پھانسی کی سزا پر عملدرآمد کو روک رکھا ہے، ان میں آج بھی کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔

اسی بارے میں