’نیٹو سپلائی پر حتمی فیصلہ مزید مشاورت کے بعد‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption دو گھنٹے تک جاری رہنے والےاجلاس میں گُزشتہ برس سلالہ چیک پوسٹ پر حملےکے بعد امریکہ اور دیگر ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کا جائزہ بھی لیا گیا۔

پاکستانی کابینہ کی دفاعی کمیٹی نے پاکستان کے راستے افغانستان میں نیٹو کو رسد کی فراہمی بحال کرنے سے متعلق حتمی فیصلے سے قبل مزید مشاورت کرنے پر اتفاق کیا ہے جبکہ کمیٹی نے افغانستان کے مستقبل پر شکاگو میں منعقد ہونے والے نیٹو کے اہم اجلاس میں صدر زرداری کی شرکت کی توثیق کی ہے۔

منگل کی رات اسلام آباد میں وزیراعظم کی سربراہی میں ہونے والے کابینہ کی دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان کے علاوہ ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی انٹیلیجنس بیورو، وزیر دفاع، وزیر خارجہ، وزیر خزانہ اور وزیر داخلہ نے شرکت کی۔

اجلاس کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا رسد کی بحالی کا حتمی فیصلہ مزید مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

وزیر اطلاعات نے یہ نہیں بتایا کہ متعلقہ ادارے کتنے عرصے میں اپنی مشاورت مکمل کریں گے اور دفاعی امور سے متعلق وفاقی کابینہ کی کمیٹی کا آئندہ اجلاس کب طلب کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ منگل کو ہونے والے اجلاس میں نیٹو کے سیکرٹری جنرل کی طرف سے صدر آصف علی زرداری کو افغانستان کے معاملے پراس ماہ امریکہ کے شہر شکاگو میں ہونے والی کانفرنس میں غیر مشروط شرکت کی دعوت کا خیر مقدم کیا گیا اور صدر کی اس کانفرنس میں شرکت کی توثیق کی گئی۔

اجلاس میں افغانستان کی صورت حال اور نیٹو افواج کی سپلائی کھولنے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال ہوا اور دو گھنٹے سے زیادہ دیر تک جاری رہنے والےاس اجلاس میں گُزشتہ برس نومبر میں سلالہ چیک پوسٹ پر ہونےوالے حملےکے بعد امریکہ اور دیگر ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کا جائزہ لیا گیا۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وزارت خارجہ امریکی حکام سے ڈرون حملوں کی روک تھام اور سلالہ واقعے کےبارے میں معافی مانگنے سے متعلق بات چیت جاری رکھے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان کے راستے نیٹو کو رسد کی فراہمی کا سلسلہ تقریباً چھ ماہ سے بند ہے

اس کے علاوہ اجلاس میں فوجی حکام سے کہا گیا کہ وہ سرحدی قواعد پر ایساف اور نیٹوافواج کے کمانڈروں کے ساتھ مذاکرات کریں تاکہ مستقبل میں سلالہ جیسے واقعات کو رونما ہونے سے روکا جاسکے۔

وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور نیٹوسپلائی بحال کرنے کی صورت میں پارلیمنٹ کی سفارشات موجود ہیں اور ان سفارشات کی اصل روح کو تسلیم کروایا جائے گا۔

شکاگو کانفرنس میں پاکستان کی شرکت

ادھر افغانستان کے مستقبل کے بارے میں ہونے والے نیٹو کے اجلاس میں پاکستانی صدر کی شرکت کے امکانات واضح ہوگئے ہیں۔

پاکستان کے سرکاری ٹیلی ویژن پی ٹی وی کے مطابق نیٹو کے سیکرٹری جنرل آندرے راسموسن نے منگل کو صدر زرداری کو ٹیلی فون کر کے امریکی شہر شکاگو میں منعقد ہونے والے اس اجلاس میں شرکت کی دعوت دی۔

واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے نے بی بی سی کو بتایا کہ اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ صدرِ پاکستان اس اجلاس میں شریک ہوں گے۔

خیال رہے کہ پاکستان افغانستان کے معاملے پر بون میں ہونے والے گزشتہ نیٹو اجلاس سے عالمی کوششوں کے باوجود دور رہا تھا۔

اب صدر زرداری کو شکاگو کانفرنس میں شرکت کی دعوت ایک ایسے موقع پر دی گئی ہے جب پاکستان کی جانب سے افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کوزمینی راستے سے رسد کی ترسیل بحال کرنے سے متعلق مثبت اشارے سامنے آئے ہیں۔

پیر کو پاکستانی وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا تھا کہ پاکستان افغانستان اور وہاں موجود ممالک کے لیے مشکلات کھڑی کرنے والا نہیں بلکہ ایک سہولت کار بننا چاہتا ہے۔

اسی بارے میں