’ٹینکرز مالکان اپنی تیاریاں مکمل رکھیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جیسے ہی اجازت ملے گی وہ روانہ ہونے ہو جائیں گے: ٹینکرز مالکان

پاکستان میں آئل ٹینکرز کے مالکان کا کہنا ہے کہ انہیں حکومت نے یقین دہانی کرا دی ہے کہ افغانستان میں نیٹو افواج کے لیے سپلائی ایک ہفتے میں بحال ہونے کی امید ہے اور وہ اس سلسلے میں اپنی تیاری مکمل رکھیں۔

آل پاکستان آئل ٹینکرز اونرز ایسوسی ایشن کے سربراہ یوسف شاہوانی نے منگل کو کراچی پریس کلب میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اور دیگر متعلقہ تنظیموں کے نمائندوں کا وزیرِ داخلہ رحمان ملک کے ساتھ اسلام آباد میں ایک اجلاس ہوا۔

انہوں نے کہا کہ اجلاس میں افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کو سامان رسد اور تیل کی ترسیل کی بحالی کے سلسلے میں بات کی گئی۔

ان کے بقول وزیرِ داخلہ نے اجلاس کو بتایا کہ’توقع ہے کہ نیٹو افواج کو سامان اور تیل کی ترسیل کی بحالی اگلے چند روز میں کر دی جائے۔‘

یوسف شاہوانی نے کہا ’وزیرِ داخلہ نے نیٹو کو سپلائی کی ممکنہ بحالی کے تناظر میں ہمیں اپنے ٹینکرز تیار رکھنے کے لیے کہا ہے اور یقین دلایا ہے کہ ایک ہفتے میں سپلائی بحال ہوسکتی ہے۔‘

نامہ نگار ارمان صابر کے مطابق نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تنظیم کے سیکرٹری جنرل شفیق کاکڑ نے کہا کہ نیٹو افواج کو تیل فراہم کرنے والے ٹینکروں کو تحفظ فراہم کرنا ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان کے مختلف علاقوں میں نیٹو سپلائی کے آئل ٹینکرز اور کنٹینرز پر درجنوں حملے ہو چکے ہیں

ان کے بقول ’ہمارے آئل ٹینکروں پر حملے کیے جاتے ہیں یا پھر ان کا تیل چوری کر لیا جاتا ہے۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ آئل ٹینکروں کو راستے میں پولیس موبائلوں کے ذریعے کا تحفظ فراہم کرے۔‘

یوسف شاہوانی نے بتایا کہ تیل کی ترسیل بحال ہونے کے بعد امید ہے کہ روزانہ چار سو سے ساڑھے چار سو آئل ٹینکرز کراچی سے تیل لیکر نکلیں گے جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نیٹو کو سپلائی کرنے والے ٹینکرز نے اپنی تیاری مکمل کرلی ہے اور جیسے ہی اجازت ملے گی ٹینکرز روانہ ہونا شروع ہو جائیں گے۔

اسی بارے میں