وزیراعظم کووفاقی بجٹ کی منظوری سےروکاجائے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ یوسف رضا گیلانی کی نااہلی اور اس سے متعلق دیگر درخواستیں بھی ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو نئے مالی سال کے لیے بجٹ کی منظوری دینے سے روکنے کے لیے لاہور ہائی کورٹ نے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کردیئے ہیں۔

ہائی کورٹ کے جسٹس عمر عطاء بندیال نے یہ درخواست چیف جسٹس لاہور کورٹ کو اس سفارش کے ساتھ بھجوائی کہ اس کی سماعت کے لیے بڑا بنچ تشکیل دیا جائے۔

یہ درخواست شہنشاہ پراچہ نے اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ کے توسط سے دائر کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد یوسف رضا گیلانی سزا یافتہ ہیں اور وہ وزیر اعظم کے منصب کے لیے نااہل ہوچکے ہیں اس لیے انہیں وفاقی بجٹ کی منظوری سے روکا جائے۔

لاہور میں بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق کا کہنا ہے کہ سماعت کے دوران جسٹس عمر عطاء بندیال نے قرار دیا کہ درخواست اہم نوعیت کی ہے اس لیے اس کی سماعت بڑے بنچ کے روبرو ہونی چاہئیے۔

اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ یوسف رضا گیلانی کی نااہلی اور اس سے متعلق دیگر درخواستیں بھی ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔ جس پر جسٹس عمر عطاء بندیال نے ہدایت کی کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف ایک ہی نوعیت کی مختلف درخواستوں کو یکجا کیا جائے تاکہ ان پر سماعت بھی تشکیل دیئے جانے والے بڑے بنچ کے روبرو ہو سکے۔

ادھر وزیراعظم کے وکیل اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ آئین اور قانون کے تحت مختصر فیصلے کے ذریعے کسی کو سزا نہیں سنائی جاسکتی۔

لاہور ہائی کورٹ کے احاطے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اعتزاز احسن نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر مشاورت جاری ہے اور اپیل دائر کرنے سمیت آپرپشن موجود ہیں۔

اسی بارے میں