حیات آباد پر راکٹ حملے، لوگوں کی نقل مکانی

خیبر پختونخواہ فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ’راکٹ قبائلی علاقے کی سرحد کی طرف سے فائر ہوئے ہیں جو کہیں بھی گر جاتے ہیں‘

صوبہ خیبر پختونخواہ کے رہائشی علاقے حیات آباد میں چار روز سے راکٹ فائر کیے جا رہے ہیں جس میں اب تک ایک شخص ہلاک اور چار زخمی ہوئے ہیں جبکہ بڑی تعداد میں مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔

حیات آباد کے فیز سکس سے اب لوگوں نے نقل مکانی شروع کر دی ہے۔

جمرود روڈ پر خیبر ایجنسی کی سرحد کے قریب واقع حیات آباد کا علاقہ پشاور کا جدید رہائشی علاقہ ہے ۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں فوجی آپریشن شروع ہونے کے بعد سے راکٹ برسانے کا سلسلہ شروع ہوا ہے اور یہ راکٹ حیات آباد کے فیز سکس میں مختلف مقامات پرگرے ہیں۔

بیشتر راکٹ گھروں پرگرے ہیں جبکہ کچھ راکٹ گاڑیوں کو لگے ہیں جس میں ایک ٹیکسی ڈرائیور ہلاک ہوا ہے۔

پشاور سے نامہ نگار عزیزاللہ خان کا کہنا ہے کہ حیات آباد فیز سکس میں فرنٹیئر کور کا کیمپ بھی قائم ہے جو خیبر ایجنسی کی سرحد کے بالکل قریب ہے۔

راکٹ حملوں کے بعد اب لوگوں نے نقل مکانی شروع کر دی ہے۔

ایک نوجوان نے بتایا کہ راکٹ قبائلی علاقے کی سرحد کی طرف سے فائر ہوئے ہیں جو کہیں بھی گر جاتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ چار روز میں کم سے کم سولہ راکٹ فائر ہوئے ہیں۔ ’پولیس موقع پر پہنچ کر متاثرہ مقام کا جائزہ لیتی ہے میڈیا والے تصویریں بناتے ہیں اور چلے جاتے ہیں اس کے بعد کچھ نہیں ہوتا۔‘

حیات آباد کے رہائشیوں نے بتایا کہ منگل کی رات ساڑھے آٹھ بجے ایک مکان پر راکٹ گرا ہے جس سے مکان کو شدید نقصان پہنچا، مکان میں موجود لوگوں میں خوف ہے اور اب وہ دیگر علاقوں کو نقل مکانی کا سوچ رہے ہیں۔

حیات آباد کا رہائشی علاقہ جمرود روڈ پر انیس سو اٹھہتر میں قائم کیا گیا تھا اور اس کے سات فیز ہیں جن میں سے ایک فیز سرکاری دفاتر اور ملازمین کے مکانات کے لیے مختص ہے۔ حیات آباد میں چھوٹے بڑے سولہ ہزار مکانات ہیں۔

راکٹ سے متاثر ہونے والے مکان کے مالک کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ مہنگی زمین اس لیے خریدی تھی کہ یہاں سکیورٹی ہے یہاں پولیس اور فرنٹیئر کور دونوں ہی موجود ہیں لیکن یہ معلوم نہیں تھا کہ ایسا بھی ہوگا اب انھیں لاکھوں روپے کا نقصان ہوا ہے اس کا ذمہ دار کون ہے۔

پراپرٹی ڈیلرز کا کہنا ہے کہ خیبر ایجنسی سے آنے والے لوگ تو کیمپوں میں جا رہے ہیں جبکہ مکانات میں پہلے سے رہائشی لوگ یا تو شہر کے دیگر علاقوں میں مکان ڈھونڈ رہے ہیں یا رشتہ داروں کے پاس منتقل ہو رہے ہیں۔

کچھ روز پہلے تک حیات میں آباد کرائے کے لیے مکان دستیاب نہیں تھے جس کی بڑی وجہ قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن سے متاثرہ افراد کی آمد تھی اب قبائل سے آنے والے لوگ یہ مکان خالی کر رہے ہیں یا نہیں لیکن مقامی لوگوں نے نقل مکانی شروع کر دی ہے۔

اسی بارے میں