توہینِ عدالت:بابر اعوان پر فردِ جرم عائد

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عدلیہ کی کبھی تضحیک نہیں کی:بابر اعوان

سپریم کورٹ نے حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمنٹ اور سابق وزیر قانون بابر اعوان پر توہین عدالت کے مقدمے میں فرد جُرم عائد کر دی ہے۔

عدالت نے اٹارنی جنرل کو اس مقدمے میں استغاثہ کا کردار ادا کرنے اور بابر اعوان کے خلاف عدالت میں شواہد جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔

جمعرات کو جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے بابر اعوان پر فرد جُرم عائد کرتے ہوئے کہا کہ اُنہوں نے یکم دسمبر سنہ دوہزار گیارہ کو جو پریس کانفرنس کی تھی اُس میں جان بوچھ کر عدلیہ کی تضحیک کی گئی تھی۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق فردِ جُرم میں کہا گیا ہے کہ پریس کانفرنس میں اُنہوں نے سپریم کورٹ کے جج کا مذاق اُّّڑایا۔

بابر اعوان نے عدالت میں صحت جُرم سے انکار کیا اور کہا کہ اس ملک میں توہین عدالت کا کوئی قانون موجود نہیں ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اُنہوں نے عدلیہ کی کبھی تضحیک نہیں کی۔

اس سے پہلے بابر اعوان نے سپریم کورٹ سے غیر مشروط معافی بھی مانگی تھی جو قبول نہیں کی گئی۔ عدالت کا کہنا ہے کہ معافی نامہ فرد جُرم عائد ہونے کے بعد بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

عدالت نے اٹارنی جنرل عرفان قادر کو عدالت میں طلب کیا اور اُنہیں اس مقدمے میں استعاثہ کا کردار ادا کرنے کو کہا۔ عرفان قادر نے استغاثہ بننے سے معذوری ظاہر کی جسے عدالت نے تسلیم نہیں کیا۔

عدالت نے اٹارنی جنرل کو چھبیس مئی تک بابر اعوان کے خلاف شواہد عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ اس مقدمے کی سماعت اُنتیس مئی تک کے لیے ملتوی کردی۔

خیال رہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا دس رکنی بینچ توہین عدالت کے مقدمے میں نوٹس ملنے پر صحافیوں سے گفتگو کے دوران شعر پڑھنے پر بابر اعوان کا وکالت کا لائسنس معطل کر چکا ہے۔

بابر اعوان سے شعر پڑھا تھا کہ ’نوٹس ملیا کھکھ نہ ہلیا، کیوں سوہنیاں دا گلہ کراں، میں لکھ واری بسم اللہ کراں‘۔

لائسنس کی معطلی کے بعد بابر اعوان کو پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی اور سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی سزا سے متعلق صدارتی ریفرنس کی پیروی سے بھی ہاتھ دھونا پڑے تھے۔

بابر اعوان کو ان دنوں حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے بھی شدید تنقید کا سامنا ہے کیونکہ اُنہوں نے وزیر اعظم کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے میں بطور گواہ پیش ہونے سے معذوری ظاہر کی تھی۔

اس کے بعد پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے بابر اعوان سے پارٹی کے نائب صدر اور سیکرٹری فنانس کا عہدہ واپس لے لیا تھا۔

اسی بارے میں