دوست کھو سکتے ہیں پڑوسی نہیں:افغان سفارتکار

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption افغان سفیر کا کہنا تھا جنیوا قوانین کے تحت پاکستان کو افغانستان کے لیے تجارتی راستے کھولنے چاہیئیں۔

پشاور میں افغانستان کے قونصل جنرل کا کہنا ہے کہ افغانستان پاکستان سے تعلقات میں خرابی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

انہوں نے یہ بات پشاور میں تعینات افغان قونصل جنرل سید محمد ابراہیم خیل نے جمعرات کو پشاور یونیورسٹی میں شعبہ سیاسیات کے زیرِ اہتمام پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے موضوع پر منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ ہم ایک دوست ملک کو تو کھو سکتے ہیں لیکن ایک پڑوسی ملک کو کسی صورت نہیں گنوا سکتے‘۔

قونصل جنرل کا کہنا تھا کہ افغانستان میں کوئی بندرگاہ نہیں جس کی وجہ سے انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے جبکہ جنیوا قوانین کے مطابق اسلام آباد کو کابل کے لیے تمام تجارتی سہولیات فراہم کرنی چاہیئیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کو چاہیے کہ افغانستان کے سامان کو ہندوستان تک رسائی کی اجازت دے تاکہ اس کے ملک میں تجارتی سرگرمیاں بڑھ سکیں۔

نامہ نگار رحمان اللہ کے مطابق ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان کی طرف سے نیٹو سپلائی پر گزشتہ چھ ماہ سے جاری پابندی کی وجہ سے افغان طلبہ کو اتحادی افواج کی طرف سے عطیے کے طور پر دی جانے والی درسی کتابوں کو کراچی کی بندرگاہ پر روک لیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں تعینات اتحادی افواج کی طرف سے افغان طلبہ کو سات لاکھ کے قریب درسی کتب عطیہ کی گئی ہیں تاہم نیٹو سپلائی پر پابندی کی وجہ سے یہ کتابیں ابھی تک افغانستان نہیں پہنچ سکی ہیں جس سے ان کے مطابق افغان طالب علموں کا قیمتی وقت ایک ماہ سے ضائع سے ہورہا ہے۔

انہوں نے پاکستان سے خصوصی طور پر مطالبہ کیا کہ ان کتابوں کو افغانستان لے جانے کی اجازت دی جائے تاکہ طلبہ کا قیمتی وقت مزید ضائع ہونے سے بچایا جائے۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شعبہ سیاسیات پشاور یونیورسٹی کے سربراہ اے زیڈ ہلالی نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے حکمرانوں کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ خطے میں تجارت کے فروغ کےلیے دونوں ممالک کو سیاسی اور تجارتی معاملات کو الگ الگ رکھنا چاہیے۔

اپنے خطاب میں آئی ایم ایس کے پروفیسر سید وقارحسین نے کہا کہ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان غیر قانونی تجارت نے پاکستان کے اندر کارخانوں اور مارکیٹوں پر برے اثرات مرتب کیے ہیں تاہم حکومت نے اس کے روک تھام کےلیے کوئی اقدامات نہیں کیے۔

کانفرنس سے ملک کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے پروفیسروں اور ماہرین نے خطاب کیا اور پاک افغان تجارتی سرگرمیوں پر روشنی ڈالی۔

اسی بارے میں