سندھ: نوے دنوں میں بلدیاتی انتخابات کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم میں اختلافات پائے جاتے ہیں

سندھ ہائی کورٹ نے صوبائی حکومت کو نوے دنوں کے اندر بلدیاتی انتخابات کرانے کا حکم جاری کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو اس بارے میں انتظامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔

سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس فیصل عرب اور جسٹس ندیم احمد پر مشتمل بینچ نے جمعہ کو سکھر کے سابق ناظم سید ناصر شاہ کی درخواست پر یہ فیصلہ سنایا۔

اس درخواست میں پاکستان کے سابق صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کی جانب سے سنہ دو ہزار دس میں متعارف کرائے گئے بلدیاتی نظام کو تحلیل کرنے کے اقدام کو چیلنج کیا گیا تھا۔

درخواست گذار کا موقف ہے کہ بلدیاتی انتخابات کو موخر رکھنا آئین کی خلاف روزری ہے، اس بارے میں پاکستان کے آئین کے آرٹیکل ایک سو چالیس اے، بتیس اور سترہ کا حوالہ دیا گیا ہے۔

آئین کے تحت ہر صوبہ بلدیاتی اداروں کے قیام کا پابند ہوگا، جنہیں سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات حاصل ہوں گے، ریاست بلدیاتی اداروں کے قیام کی حوصلہ افزائی کرے گی، جن میں کسانوں، مزدروں اور خواتین کو خصوصی نمائندگی دی جائیگی۔

کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ بلدیاتی انتخابات ملک کے آئین کے آرٹیکل ایک سو چالیس اے کی روح کے مطابق کرائے جائیں۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے بلوچستان میں پرتشدد واقعات کے بارے میں درخواست کے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ بلدیاتی انتخابات منعقد کروانا آئینی تقاضہ ہے۔

سندھ ہائی کورٹ میں سماعت کے موقع پر صوبائی حکومت نے اپنے جواب میں تسلیم کیا کہ بلدیاتی انتخابات آئینی ضرورت ہیں ان کے انعقاد کے لیے وقت درکار ہے، مگر یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ وقت کتنا ہوگا۔

عدالت نے اس سے اتفاق نہیں کیا اور بلدیاتی انتخابات نوے دنوں میں کرانے کا حکم جاری کیا۔

سندھ میں بلدیاتی نظام کے معاملے پر ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی میں طویل عرصے سے اختلاف پائے جاتے ہیں اور اس مسئلے پر ایم کیو ایم حکومت سے ایک مرتبہ علیحدہ بھی ہوچکی ہے۔

گزشتہ سال جولائی میں ایم کیو ایم کے سندھ حکومت سے علیحدہ ہونے کے بعد پیپلزپارٹی نے سندھ اسمبلی میں کثرتِ رائے سے کمشنری نظام بحال کرنے کا بِل منظور کیا تھا جس کے بعد ایم کیو ایم کی جانب سے شدید احتجاج ہوا اور پھر گورنر سندھ نے اگست کے آغاز میں ایک آرڈینینس کے ذریعے دوہزار ایک کا مقامی حکومتوں کا نظام بحال کردیا تھا۔

حکمران جماعت ملک کے سابق فوجی صدر جنرل (ریٹائرڈ) ضیاء الحق کا بلدیاتی نظام کچھ ترامیم کے ساتھ نافذ کرنے کی حامی ہے، جبکہ متحدہ قومی موومنٹ سابق صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کے بلدیاتی نظام کی بھرپور حمایت کرتی ہے ۔

اس سلسلے دونوں جماعتوں کے کئی اجلاس ہوئے مگر ابھی تک اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔

بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اگر کراچی میں بلدیاتی انتخابات ہوجائیں تو ٹارگٹ کلنگز کے واقعات میں کمی آسکتی ہے۔

اسی بارے میں