تربت: صحافی کی لاش برآمد

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption صحافی رزاق گل کے قتل کے خلاف تربت، مند، ہوشاب اور تمپ میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی

پاکستان کے صوبے بلوچستان میں پولیس کو ’ایکسپریس نیوز‘ تربت کے نمائندے رزاق گل کی لاش ملی ہے جو کل رات گھرجاتے ہوئے لاپتہ ہوگئے تھے۔

واقعہ کے خلاف سنیچر کو تربت میں مکمل شٹرڈاؤن ہڑتال ہوئی۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق سنیچر کی صبح پولیس کو سنگانی سر میں پرانے سول ہسپتال کے قریب ’ایکسپریس نیوز‘ کےمقامی نمائندے رزاق گل کی لاش ملی۔ جنہیں فوری طور پر سول ہسپتال تربت منتقل کیا گیا۔

ڈاکٹروں کے مطابق نامعلوم افراد نے رزاق گل کو سر اور سینے میں گولیاں ماریں۔

واقعہ کی اطلاع ملنے پر رزاق گل کے بھائی نے اسپتال میں لاش کی شناخت کر لی اور بتایا کہ ان کے بھائی رزاق گزشتہ رات پریس کلب سے گھر کے لیے نکلے اور راستے میں لاپتہ ہوگئے۔ ان کی کمشدگی کی رپورٹ تربت تھانے میں درج کرا دی گئی تھی۔

رزاق گل کی نمازجنازہ سنیچر کو بارہ بجے ادا کر دی گئی جس کے بعد انہیں ان کے آبائی علاقے سنگانی سر میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔

تربت کے صحافیوں کے مطابق رزاق گل کو کسی قسم کی دھمکی یا خطر ے کی شکایات نہیں تھیں۔

صحافی رزاق گل کے قتل کے خلاف تربت، مند، ہوشاب اور تمپ میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی۔

دوسری جانب کونسل آف آل بلوچستان پریس کلبز نے تین روزہ سوگ اور ملزمان کی گرفتاری نہ کرنے پر یکم جون سے صوبہ بھر میں احتجاج کا اعلان کیا ہے۔

دریں اثناء بلوچستان یونین آف جرنلسٹس اور پریس کلب چمن نے بھی رزاق گل کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے ملزمان کی گرفتاری اور صحافیوں کو تحفظ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

یاد رہے کہ بلوچستان میں سال دوہزار چھ سے اب تک اکیس صحافی ٹارگٹ کلنگ، بم دھماکوں اور اغواء کے بعد قتل ہوچکے ہیں لیکن آج تک ان واقعات میں ملوث ملزمان گرفتار نہیں ہوسکے۔

رزاق گل کے قتل کے بعد بلوچستان کے صحافیوں میں ایک بارپھر خوف وہراس بڑھ گئی ہے کیونکہ ابھی تک مختلف حکومتی اور مسلح تنظیموں کی جانب سے پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کے صحافیوں پر خبروں نشر اور شائع کرنے کے لیے مختلف طریقوں سے دباؤ ڈالاجا رہا ہے ۔

اسی بارے میں