’نیٹو سپلائی، ہزاروں مالی مشکلات سے دوچار‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ایک ایسے وقت جب امریکہ اور نیٹو اپنے جنگی فوجی دستوں کو افغانستان سے نکالنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، افغان سرحد کو کراچی کی بندرگاہ سے ملانے والی سڑکوں کی حالت زار اور نیٹو سپلائی پر ٹرانزٹ فیس کا معاملہ ایک بار پھر پاک امریکہ مذاکرات کا حصہ ہیں۔

کچھ زیادہ وقت نہیں گزرا جب پاکستان کی جانب سے سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو کے فضائی حملے کے بعد ان راستوں کو بند کیے جانے سے پہلے یہ افغانستان میں تعینات بین الاقوامی افواج رسد کی فراہمی کے لیے لائف لائن یا اتحادی افواج کی بنیادی ضرورت تھے۔

نیٹو سپلائی کی بندش کے بعد آئل ٹینکرز اور کنٹینرز کے ذریعے نیٹو کی رسد افغانستان پہنچانے والے ہزاروں افراد بھی مالی مشکلات سے دوچار ہو گئے ہیں۔

کراچی سے کابل نیٹو رسد پہنچانے والے ایک ٹرک ڈرائیور شمس الدین نے اپنی مالی مشکلات کا اظہار کرتے ہوئے کہا’گزشتہ چھ ماہ سے وہ بے روزگار ہیں اور اس وجہ سے بچوں کو سکول سے ہٹا لیا ہے اور یہاں تک کہ ان کا بڑا بیٹا جو سکول جاتا تھا اب یومیہ اجرت پر کام کر رہا ہے۔ ‘

کراچی کی بندرہ گار کی طرف جانے والے ایک مرکزی سڑک کے کنارے کھڑے شمس الدین کی پریشانی اس کے چہرے پر عیاں تھی، اس سڑک پر گزشتہ چھ ماہ سے ٹرکوں کی ایک لمبی قطار ہے۔

گزشتہ سال نومبر میں پاکستانی فوج کی چیک پوسٹ پر نیٹو کے فضائی حملے میں فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد سے پاکستان نے احتجاجاً نیٹو سپلائی پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

پاکستان نے ان حملوں پر امریکہ سے معافی مانگنے کا مطالبہ کر رکھا ہے اور اس کے ساتھ پاک امریکہ تعقات کا ازسر نو جائزہ لیا ہے، جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے تعلقات میں نہ صرف تناؤ پایا جاتا ہے بلکہ طویل مذاکرات میں نیٹو سپلائی کی بحالی میں ’لین دین‘ اہم معاملہ بن گیا ہے۔

ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ سپلائی بند ہونے سے پہلے ماہانہ پندرہ ہزار ٹرک رسد کی ترسیل میں استعمال ہوتے تھے۔

کراچی کی بندرگے سے روانہ ہونے والے ہر ایک ٹرک کے ساتھ کسی نہ کسی طرح دس افراد کا روزگار وابستہ تھا، اس کا مطلب ہے کہ سپلائی بند ہونے کی وجہ سے ایک لاکھ پچاس ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC Urdu
Image caption گزشتہ چھ ماہ سے وہ بے روزگار ہیں اور اس وجہ سے بچوں کو سکول سے ہٹا لیا ہے: شمس الدین

بندرگاہ سے ہر روز روانہ ہونے والے ٹرکوں کا ریکارڈ رکھنا محمد صابر کے ذمے تھا اور وہ یہ کام یومیہ اجرت پر کرتے ہیں۔

اپنے ایک کمرے پر مشتمل مکان کی جانب دیکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’میرے مالی وسائل کا مکمل طور پر انحصار نیٹو سپلائی کے کاروبار پر تھا اور اب سپلائی بند ہونے کی وجہ سے میرے خاندان کو مالی مشکلات کا سامنا ہے۔‘

ان کی اہلیہ نے درپیش مالی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ’ ہم پہلے بڑے مکان میں رہائش پذیر تھے لیکن اب مکان، کھانے پینے کی اشیاء اور بجلی کے بلوں سمیت تمام ضروریات زندگی میں کٹوتیاں کرنا پڑتی ہیں۔‘

ملک میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے نیٹو سپلائی بحال کرنے کی مخالفت کرنے کے برعکس اس کاروبارہ سے منسلک ہزاروں افراد اس روزگار میں درپیش خطرات کے باوجود چاہتے ہیں کہ نیٹو سپلائی کو بحال کیا جائے۔

شمس الدین کے مطابق گزشتہ دس سال کے دوران خودساختہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور پاک امریکہ تعلقات کے مخالف عناصر کے حملوں میں درجنوں ٹرک ڈرائیور مارے جا چکے ہیں۔

ٹرک ڈرائیورز کو امید ہے کہ نیٹو سپلائی بحال ہونی چاہے اور اس کے ساتھ ہی پاکستان کی حکومت کو چاہیے کہ ٹرک ڈرائیوروں کی حفاظت کے حوالے سے اقدامات کرے۔

شمس الدین نے کہا کہ’ اگر نیٹو سپلائی بحال ہوتی ہے تو ہمیں لازمی طور پر راستے میں پارکنگ میسر ہونی چاہیے تاکہ کم از کم سکون سے کھانا تو کھا سکیں۔‘

امریکی اخبار واشنگٹن کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان نے افغانستان جانے اور وہاں سے پاکستانی حدود میں داخل ہونے والے نیٹو سپلائی کے ٹرکوں پر پانچ ہزار ڈالر فی ٹرک ٹرانزٹ فیس وصول کرنے کی تجویز رکھی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC Urdu
Image caption محمد صابر مالی مشکلات کی وجہ سے ایک کمرے پر مشتمل مکان پر منتقل ہونے پر مجبور ہو گئے ہیں

اطلاعات کے مطابق امریکہ کی جانب سے ابھی تک معاوضے پر کوئی حمتی سمجھوتہ طے نہیں پایا ہے لیکن اگر ایسا ہو جاتا ہے تو اس صورت میں پاکستان کو روزانہ تقریباً بیس لاکھ ڈالر ملیں گے، کیونکہ نیٹو سپلائی بند کیے جانے سے پہلے افغانستان میں اتحادی افواج کو رسد کی کل ترسیل کا ستر فیصد پاکستان کے زمینی راستے سے جاتا تھا۔

پاکستان کے صدر آصف زرداری امریکی شہر شکاگو میں اتوار سے شروع ہونے والی نیٹو کانفرس میں شرکت کر رہے ہیں اور توقع ہے کہ وہاں ان کی امریکی حکام سے ہونے والی ملاقات میں نیٹو سپلائی کی جلد بحالی پر پیش رفت ہو سکے گی۔

پاکستان کے وزیر دفاع چوہدری احمد مختار نےگزشتہ دنوں بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ سے پہلے نیٹو سپلائی کا مسئلہ حل ہو جائے۔ مذہبی جماعتوں نے ان کے اس بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ’ ملکی وقار کا امریکی ڈالرز کے عوض سودا کیا جا رہا ہے۔‘

پاکستان کے لیے نیٹو سپلائی پر پابندی کا خاتمہ بلاشبہ ایک مشکل سیاسی فیصلہ ہوگا۔ سپلائی لائن کی بحالی کا معاملہ آئندہ چند روز میں جو بھی رخ اختیار کرے لیکن ایسے ہزاروں افراد جن کا روزگار اس کاروبار سے وابستہ ہے، وہ امید کریں گے کہ پاکستان فیصلہ سیاسی طور پر نہیں بلکہ معاشی پہلو کو سامنے رکھ کر کیا جائے۔

اسی بارے میں