لاہور:ماہر تعلیم ڈاکٹر شبیہہ الحسن قتل

مقتول کی میت(فائل فوٹو)
Image caption ڈاکٹر شبیہ الحسن کے قتل کو فرقہ وارنہ واردات بھی کہا جا رہا ہے

پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں معروف ماہر تعلیم، ادیب اور نقاد ڈاکٹر سید شبیہ الحسن ہاشمی کو نامعلوم افراد نے گولیاں مار کر ہلاک کردیا۔

ڈاکٹر شبیہ الحسن کو ان کی نجی تعلیمی ادارے کے باہر ہلاک کیا گیا۔ ان کی نماز جنازہ سنیچر کے روز لاہور میں ادا کی گئی جس میں اہم شخصیات نے شرکت کی اور مقتول کو فرودسیہ قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔

پولیس نے مقتول ادیب کے بھائی کی درخواست پر مقدمہ درج کرلیا ہے تاہم ابھی تک ملزموں کی گرفتاری کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔

سید ڈاکٹر شبیہ الحسن کو جمعہ کی رات شمالی چھاؤنی کے علاقے میں نامعلوم افراد نے اس وقت گولیاں مار دیں جب وہ اپنے نجی تعلیمی ادارے سے باہر کھڑی اپنی گاڑی میں سوار ہونے لگے تھے۔

نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے ڈاکٹر شبیہہ الحسن پر فائرنگ کی جس سے انہیں دو گولیاں لگیں۔ انہیں سروسز ہسپتال پہنچایا گیا لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

ڈاکٹر شبیہ الحسن کے والد سید وحید الحسن ہاشمی ماہر تعلیم تھے۔ مقتول ڈاکٹر شبیہ الحسن صوبائی دارالحکومت کے گورنمنٹ کالج ٹاؤن شب میں شعبہ اردو کے سربراہ ہونے کے ساتھ ساتھ پچاس سے زائد کتابوں کے منصف تھے۔

مقتول نے اپنے پسماندگان میں بیوہ، دو بیٹیاں اور ایک بیٹا سوگوار چھوڑا ہے۔

مشہور ڈرامہ نگار اور شاعر امجد اسلام امجد اسلام سمیت دیگر ادبی شخصیات نے ڈاکٹر شبیہہ الحسن کے قتل پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور اسے ایک بڑا نقصان قرار دیا۔

مجلس وحدت مسلمین نے ڈاکٹر شبیہہ الحسن کی ہلاکت کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ ڈاکٹر شبیہ الحسن کا قتل اسی دہشت گرد ٹولے کی کارروائی ہے جو پورے ملک میں شیعوں کے قتل میں ملوث ہے۔

اسی بارے میں