کراچی:سی آئی ڈی عمارت امریکی تعاون سے تعمیر

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption کراچی کے سول لائینز علاقے میں واقع سی آئی ڈی پولیس کے اس مرکز پر ٹرک کے ذریعے ہونے والے بم حملے میں اٹھارہ افراد ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہوئے تھے

پاکستان کے صوبۂ سندھ میں پولیس کے سربراہ آئی جی مشتاق شاہ نے تصدیق کی ہے کہ امریکی سفارتخانے کا عملہ سندھ پولیس کے شعبۂ سی آئی ڈی کی اس تباہ شدہ عمارت کی مرمت کروا رہا ہے جو گیارہ نومبر سنہ دو ہزار دس کو ہونے والے تباہ کن دھماکے میں برباد ہوگئی تھی۔

سندھ پولیس کے سربراہ آئی جی مشتاق شاہ نے بی بی سی کے نامہ نگاروں ارمان صابر اور جعفر رضوی سے خصوصی ملاقات میں بتایا کہ امریکی حکام اس عمارت کی مرمت کا کام جلد مکمل کروانا چاہتے ہیں لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ تباہ ہونے والی سرکاری عمارت امریکی اخراجات سے کیوں تعمیر کی جا رہی ہے۔

قریباً ڈیڑھ برس قبل سندھ کے وزیراعلیٰ کی رہائش گاہ کے قریب کراچی کے سول لائینز علاقے میں واقع سی آئی ڈی پولیس کے اس مرکز پر ٹرک کے ذریعے ہونے والے بم حملے میں اٹھارہ افراد ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

اس وقت کے صوبائی وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا نے ان اطلاعات کی تردید کی تھی کہ دھماکے سے ایک ہی روز قبل یہاں منتقل کیے جانے والے بعض گرفتار ملزمان کو حملہ آور چھڑا لےگئے تھے، جنہیں اسی مرکز میں رکھا گیا تھا۔ تحریکِ طالبان پاکستان نےاس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

ایک سال قبل اسلام آباد سے لاپتہ ہوکر منڈی بہاؤالدین سے مردہ حالت میں ملنے والے صحافی سلیم شہزاد کے قتل کے بعد بعض مقامی و عالمی ذرائع ابلاغ میں یہ دعوے سامنے آئے تھے کہ سلیم شہزاد کو اس دھماکے سے متعلق خبر کی تحقیق کرنے کی وجہ سے قتل کیا گیا تھا۔

ان دعوؤں کے مطابق سلیم شہزاد نے یہ جاننے کی کوشش کی تھی کہ اس عمارت میں سی آئی ڈی پاکستان کی بحری فوج سے متعلق ان زیر حراست افراد کوگرفتار کر کے رکھا گیا تھا جن پر شدت پسند تنظیم القاعدہ سے تعلق کا شبہ تھا۔

لیکن کراچی کے ایک نوجوان نے، جس کا تعلق نارتھ ناظم آباد کے علاقے سے تھا اور جامعہ کراچی سے تعلیم حاصل کرچکا تھا، حکام سے رابطہ کرکے دھمکی دی تھی کہ اگر ان زیر حراست افراد کو رہا نہ کیا گیا تو شدید ردعمل سامنے آئے گا۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق اسی دھمکی کے بعد کراچی ہی میں نیوی کے مہران بیس پر شدت پسندوں نے وہ حملہ کیا تھا، جسے بائیس مئی کو (یعنی کل) ایک برس مکمل ہونے والا ہے۔

لیکن پاکستان میں حکام نے سرکاری طور پر کبھی ایسی کسی بھی پیشرفت کی تصدیق کبھی نہیں کی۔