انسانی حقوق کے کارکن امید کی کرن بن کر آئے‘

Image caption ’وہاں نظارے بھی تھے، سوکھے پہاڑ، سوکھی ندیاں جو برسات کے بعد پانی سے بھر جایا کرتی تھیں: خلیل چشتی

بھارت میں مجبوراً اکیس برس گزارنے والے خلیل چشتی پاکستان میں اپنےگھر پہنچنے کے بعد کہتے ہیں کہ انہیں اپنے وطن پہنچنے کی امید اُس وقت نظر آئی جب ان سے انسانی حقوق کے کارکنوں نے رابطہ کیا۔

’جب آدمی جیل جاتا ہے تو اس کو شروع سے ہی گھبراہٹ ہوتی ہے اور سوچتا ہے کہ کہاں پھنس گیا کیسے پھنس گیا اور ظاہر ہے کہ وطن کی یاد تو ہر وقت رہتی ہے۔ احساسِ مجبوری اور ناامیدی ہمیشہ ہی قائم رہا۔‘

انہوں نے کہا کہ امید کی کرن انہیں کوئی دو ماہ پہلے دکھائی دی۔ ’بھارت میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو جیل میں قیدیوں کے لیے کام کرتے ہیں اور ان کی ایک نمائندہ خاتون سے جیل میں ملاقات ہوئی اور انہوں نے کہا کہ ہم آپ کے کیس کی پیروی کریں گے۔ وہ ہی امید کی پہلی کرن تھیں۔‘

کراچی میں خلیل چشتی سے ملاقات کا اہتمام ان کی صاحبزادی شعاع جاوید نے کیا تھا۔ موبائل فون پر بات کرتے ہوئے ان کی آواز سے اپنے والد کی آمد کی خوشی جھلک رہی تھی اور انہوں نے کہا کہ رش ہونے کی بناء پر ملاقات کا وقت نہیں دے سکتیں جب چاہیں آ جائیں۔

بتائے گئے پتے پر نارتھ ناظم آباد کی گلی میں داخل ہوئے تو مکان تلاش کرنے میں کوئی دقت نہ ہوئی۔

مکان پر ایک سیاسی جماعت کے بڑے بڑے بینر اور پوسٹر لگے ہوئے تھے جس میں ڈاکٹر خلیل چشتی کو اپنے گھر پہنچنے پر خوش آمدید کہا گیا تھا۔

تاہم ان کے مکان کے باہر کسی قسم کی کوئی سکیورٹی کا انتظام نہیں دیکھا گیا، نہ سکیورٹی گارڈز، نہ پولیس اور نہ ہی کوئی اور مسلح شخص۔

گھر کی بالائی منزل پہنچے تو ایک ضعیف العمر شخص سہارے سے بمشکل چلتا ہوا کمرے میں موجود صوفے پر براجمان ہوا۔ یہ پاکستان کے سائنسدان ڈاکٹر خلیل چشتی تھے۔

ان کی صاحبزادیاں اور نواسیاں بھی ان کے ہمراہ تھیں۔

ڈاکٹر خلیل چشتی بیٹھنے کے بعدگویا ہوئے تو ان کی آواز مدھم ضرور تھی لیکن اُس آواز میں ایک گھن گرج تھی۔

اکیس برس پہلے بھارت روانگی اور وہاں بیتے ہوئے لمحات کا انہوں نے تفصیل سے احاطہ کیا۔ تاہم ان کی صاحبزادی ڈاکٹر طارقہ نے درخواست کی کہ معاملہ بھارتی عدالت میں ہے لہذٰا یہ باتیں تفصیل سے نہ بیان کی جائیں کیونکہ اس سے کیس پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔

ان کی اِس درخواست کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے صرف اتنا گوش گزار ہے کہ ڈاکٹر خلیل چشتی اپنی والدہ سے ملنے اجمیر گئے تھے اور وہاں ان کےگھر پر کچھ لوگوں نے حملہ کر دیا جس کے باعث حملہ آوروں میں سے ایک شخص ہلاک ہوگیا۔

اس واقعہ کی ایف آئی آر درج کی گئی اور خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ ڈاکٹر خلیل چشتی بھی قانون کی گرفت میں آگئے۔

اس واقعہ کے بعد چھ ماہ تک وہ جیل میں قید رہے اور پھر ضمانت پر رہا ہوئے۔ مقدمہ چلتا رہا یہاں تک کہ اکتیس دسمبر سنہ دو ہزار گیارہ میں انہیں عمر قید کی سزا سنادی گئی اور وہ دوبارہ جیل چلے گئے۔

اسی دوران صدر آصف علی زرداری کا اجمیر جانا ہوا اور انہیں خیرسگالی کے طور پر ضمانت پر پاکستان جانے کی اجازت دے دی گئی۔

ڈاکٹر خلیل چشتی کہتے ہیں کہ ان کا زیادہ تر وقت اپنے والد کے فارم ہاؤس میں گزرا جو اجمیر شہر سے ذرا باہر واقع ہے۔

’وہاں میں اکثر اوقات جانوروں سے باتیں کیا کرتا تھا جن میں گھوڑے، بکریاں، گائیں، اور بھیڑیں شامل تھیں۔ ایسا نہیں کہ میں صرف ان سے ہی باتیں کرتا تھا، میں گاؤں والوں سے بھی باتیں کرتا تھا۔‘

’وہاں نظارے بھی تھے، سوکھے پہاڑ، سوکھی ندیاں جو برسات کے بعد پانی سے بھر جایا کرتی تھیں اور کئی مہینوں تک بھری رہتی تھیں۔ میں ان سب کو بغور دیکھتا رہتا تھا۔‘

ڈاکٹر خلیل چشتی نے اس دوران انگریزی زبان میں شاعری بھی کی اور اپنے احساسات کو لفظوں میں ڈھالنے کی کوشش کی۔ ’میں فارغ اوقات میں سوچتا رہتا تھا اور شاعری شروع کردی تھی۔ اب تک میں نے انگریزی زبان میں کوئی ڈھائی سو نظمیں لکھ لی ہیں اور انہیں محفوظ بھی کرلی ہیں۔‘

اتنے عرصے بعد گھر پہنچ کر کیسا لگ رہا ہے اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ’اکیس سال کے بعد کوئی اپنے گھر پہنچے تو اسے جتنی خوشی ہوتی ہے مجھے بھی اتنی ہی خوشی ہے۔‘

انہوں نے ان تمام افراد کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کی عارضی رہائی اور پاکستان پہنچنے میں مدد کی۔

ڈاکٹر خلیل چشتی کو رواں برس نومبر میں دوبارہ بھارت جانا ہے جہاں مقدمہ کی کارروائی جاری ہے۔

اسی بارے میں