پشاور: تاریخی مندر میں کاغذات نذرِ آتش

peshawer-old-temple تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اس مندر کی عمارت ایک سو ساٹھ سال پُرانی ہے

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں ایک سو ساٹھ سال پُرانے مندر کے احاطے میں آویزاں کلینڈر اور دوسرے کاغذات کو نامعلوم افراد نے نذرِ آتش کر دیا ہے۔

پشاور میں پولیس اہلکار شاہد خان نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاورخان وزیر کو بتایا کہ گزشتہ شام تحصیل گور کھٹڑی میں تحیصل بلڈنگ کے اندر واقع مندر میں آویزاں کلینڈر اور دوسرے کاغذات کو نامعلوم افراد نے آگ لگادی۔

انہوں نے کہا کہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعے میں مندر کی نگرانی کرنے والے ہندو اہلکار خود ملوث ہوسکتے ہیں۔ اہلکار کے مطابق محکمہ آثار قدیمہ اور ہندؤ کے درمیان چابی کے قبضے تنازعہ چلا آرہا ہے۔

پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ مندر مکمل طور پر محفوظ ہے نہ مندر کا تالا توڑا ہے اور دروازوں کو کوئی نقصان پہنچا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیر کی صُبح پولیس کی بھاری نفری مندر پہنچ گئی ہے اور محکمہ آثار قدیمہ کے اہلکار بھی مندر میں موجود ہیں اور مُشترکہ طور پر مندر کی تحقیقات کی جارہی ہیں تاہم ابھی تک کسی قسم کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

محمکہ آثار قدیمہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ مندر کے اندر صرف چند کاغذ کے ٹکڑے جلائے گئے ہیں۔اس کے علاوہ مندر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رمیش نامی ہندؤ نے خود کاغذات جلائے تھے اور پولیس کو رپورٹ کرنے سے پہلے انہوں نے میڈیا کو بلایا تھا۔

یادرہے کہ پشاور ہائی کورٹ نے ستمبر دو ہزار گیارہ میں پاکستانی ہندوؤں کو اس مندر میں عبادت کرنے کی اجازت دے دی تھی لیکن اس وقت سے ابھی تک چابیوں کے قبضے کا تنازعہ چلا آرہا تھا۔

ہندوؤں کی عبادت کے لیے بنائے گئے اس مندر کی عمارت ایک سو ساٹھ سال پُرانی ہے جبکہ تاریخی اعتبار سے پوجا کرنے والے مقامی ہندوؤں کے لیے بُہت زیادہ اہم ہے۔ یہ مندر اگر ایک جانب بُہت پُرانا ہے تو دوسری طرف پشاور شہر کی مشہور تحصیل گور کھٹڑی کے اندر واقع ہے۔

اسی بارے میں